ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

جمعرات جون 20:30

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ قبل ازیں مرحوم کی نماز جنازہ سلطان مسجد ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں وسیم اختر، عارف علوی، خالد مقبول صدیقی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی گذشتہ روز 97 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے جنہیں چند روز قبل نمونیہ کے باعث مقامی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں زیادہ طبیعت خراب ہونے کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1921ء کو ہندوستان کی ریاست ٹونک راجھستان میں پیدا ہوئے اور آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا جس کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔

تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لے آئے اور مسلم کمرشل بینک میں ملازمت اختیار کی۔ ان کی پانچ کتابیں شائع ہوئیں جن میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آبِ گم، اور شامِ شعرِ یاراں شامل ہیں۔ آپ کی ادبی خدمات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے 1999ء میں ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے تمغوں سے بھی نوازا۔