محکمہ بہبودآبادی کودرپیش چیلنجز کو دور کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائینگے، اکبرجان مروت

جمعرات جون 20:40

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) خیبرپختونخوا کے نگران وزیر برائے صحت وبہبود آبادی اکبر جان مروت نے کہاہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے وسائل کے مقابلے میںآبادی میںبے تحاشہ اضافے سے ہمارا صوبہ کئی ایک مسائل سے دوچار ہے۔آبادی میںاضافے کی بنیادی وجہ تعلیمی پسماندگی اورنچلی سطح پرعوام میںشعور آگاہی کی کمی ہے۔ انہوںنے کہا کہ آبادی میںبے تحاشہ اضافے کے سبب نہ صرف وسائل کی کمی کاسامنا کرنا پڑتاہے بلکہ انسانی صحت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ پورا معاشرہ بھی عدم توازن کا شکار ہواہے۔

اس لئے حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے تمام طبقات کو آبادی کی شرح میں کمی کے لئے عوام میںشعور اورآگاہی پیدا کرنے کے لئے اپنا بھر پورکردار ادا کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کے روز محکمہ بہبود آباد کی جانب سے محکمے کے امور کے بارے حکام کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ بہبودآبادی سید ظفر علی شاہ ،ڈائریکٹرجنرل پاپولیشن ویلفیئر فضل نبی خان کے علاوہ محکمے کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔

حکام کی جانب سے وزیرصحت کو محکمہ بہبودآبادی کے امور سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایاکہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کی آبادی 17 ملین نفوس پرمشتمل تھی جبکہ 2017 میں ہونے والی قومی مردم شماری کے مطابق صوبے کی آبادی میں2.89 فی صد کے تناسب سے اضافے کی بعد موجودہ آبادی 30.5 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ صوبے کی آبادی میںوسائل کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہواہے۔

سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر سید ظفر علی شاہ نے صوبائی وزیرکو خیبرپختونخوا پاپولیشن پالیسی 2015 کے مندرجات سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 2015 میںمحکمے کی جانب سے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاپولیشن پالیسی وضع کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاپولیشن پالیسی کے تحت مقاصد اور اہداف کے حصول کے لئے 2017 کی مردم شماری کے اعداد وشمار کے مطابق نظر ثانی اورترمیم کی ضرورت ہے۔

محکمہ بہبود آبادی کے حکام نے جاری اور مجوزہ منصوبوں سے متعلق بھی صوبائی وزیر کو آگاہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ صوبے میں 100 نئے فیملی ویلفیئر سنٹرز کے قیام پرکام جاری ہے جس سے ان سنٹرز کی تعداد بڑھ کر 600 سے زیادہ ہوجائے گی۔ ایبٹ آباد اوربٹ خیلہ میںریجنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کوبھی نئے ADP میںشامل کیاگیاہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت محکمہ بہبودآبادی کے تمام معاملات صوبوں کو منتقل کئے گئے لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے محکمہ کو کئی ایک مسائل کا بھی سامنا ہے۔

بریفنگ میںبتایا گیا کہ DFID کے تعاون سے محکمہ بہبودآبادی کے عملے کی تربیت کے لئے 60 ہزار ڈالر فنڈ فراہم کیاگیا جبکہ DFID نے اگلے تین سالوں میںمحکمہ بہبودآبادی میں مختلف پراجیکٹس کے اجراء کے لئے 70 ملین پاؤنڈز کی فراہمی میںبھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ محکمہ بہبودآبادی،آبادی کی شرح مناسب منصوبہ بندی کے لئے عوام میںشعور اورآگاہی پیدا کرنے کے لئے محکمہ صحت اورمحکمہ تعلیم کے ساتھ مل کر کئی ایک منصوبوں پرکام کررہاہے اوراس سلسلے میں ریڈیو، کیبل نیٹ ورک اورلوکل کمیونٹی کی بھی مدد لی جارہی ہے۔

حکام نے وزیرصحت کو محکمہ بہبود آبادی کو فنڈز اورعملے کی کمی سمیت دیگر درپیش مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔صوبائی وزیر اکبرجان مروت نے محکمہ بہبودآبادی کی جانب سے پیش کی جانے والی تفصیلی بریفنگ پرحکام کو سراہااور یقین دلایا کہ نگران حکومت اپنے مینڈیٹ کے مطابق محکمہ بہبودآبادی کودرپیش چیلنجز کو دور کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کرے گی۔

انہوں نے صوبے کے فیملی ویلفیئر سنٹرز میں بنیادی سہولیات اورآلات کی فراہمی کے لئے بجٹ میںفنڈز مختص کرنے سمیت محکمہ بہبودآبادی کے طبی عملے کو محکمہ صحت کی طرزپر ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے اجراء پربھی غور کرنے کی یقین دہانی کی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ محکمے کو محکمہ صحت سے متعلق مسائل اورانتہائی نوعیت کے منصوبوں کو بجٹ میںشامل کرنے کے لئے رپورٹ پیش کی جائے جسے وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کیاجائے گا۔ وزیرصحت وبہبودآبادی اکبرجان مروت نے کہا کہ آبادی میںاضافہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے جس کے لئے اجتماعی سوچ وفکر کی ضرورت ہے جبکہ نگران حکومت اس ضمن میںاپنا بھرپور کردار اداکرے گی۔