پی ٹی آئی کے ناراض رہنماؤں کا اجلاس، ٹکٹوں کی تقسیم کو غیرمنصفانہ قراردیدیا

پارلیمانی بورڈ سے نااہل اور نیب کیسز بھگتنے والوں کو نکالا جائے،شفاف پارلیمانی بورڈ تشکیل دیکر ٹکٹوں کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے، پارٹی چیئر مین اور وائس چیئر مین کے علاوہ کسی کو ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن ٹکٹ نہ دیا جائے،ناراض رہنمائوں کا مطالبہ

جمعرات جون 21:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنماؤں نے ٹکٹوں کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ کے فیصلوں کو غیر منصفانہ قراردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمانی بورڈ سے نااہل اور نیب کیسز بھگتنے والوں کو نکالا جائے،شفاف پارلیمانی بورڈ تشکیل دیکر ٹکٹوں کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے، جب کہ پارٹی چیئر مین اور وائس چیئر مین کے علاوہ کسی کو بھی ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن ٹکٹ نہ دیا جائے۔

جمعرات کو تحریک انصاف کے ناراض رہنماؤں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں حامد خان سمیت پنجاب اور خیبر پختون خوا کے ناراض رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹکٹوں کے معاملے پر تحریک انصاف کے ناراض رہنماؤں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اور پارلیمانی بورڈ کے ٹکٹوں کے حوالے سے بعض فیصلوں کو غیر منصفانہ قراردیا۔

(جاری ہے)

اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق پی ٹی آئی کے پارلیمانی بورڈ میں ایسے ممبران تھے جو سپریم کورٹ سے نااہل اور نیب کیسز بھگت رہے ہیں لہذا شفاف پارلیمانی بورڈ تشکیل دیکر ٹکٹوں کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے۔

اس کے علاوہ خواتین کی اسپیشل سیٹوں پر مرتب کردہ لسٹ بھی من پسند افراد پر مبنی ہے جب کہ پنجاب میں اقلیتی نشستوں پر ترجیحی لسٹ جمع نہ کرانا قابل مذمت ہے لہذا لسٹ جمع نہ کرانے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔اعلامیہ کے مطابق ایسے امیدوار جنہوں نے 2013 کا الیکشن پارٹی ٹکٹ پر لڑا، انہیں دوبارہ ٹکٹ دیا جائے جب کہ پارٹی چیئر مین اور وائس چیئر مین کے علاوہ کسی کو بھی ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن ٹکٹ نہ دیا جائے۔