نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری کی زیرصدارت نگران کابینہ کا پہلا اجلاس

آئندہ انتخابات کے انعقاد، صوبے میں امن وامان کی صورتحال سمیت کوئٹہ اور گوادر میں پانی کی قلت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کابینہ کی پولنگ اسٹیشنوں میں کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے جلد حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات تیز کئے جائیںگے جبکہ صوبے میں باہر سے آنے والے زائرین کو گوادر اور کراچی سے راستہ فراہم کرنے کی پالیسی وضح کی جائے گی تاکہ زائرین کو سیکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے جبکہ سیکیورٹی کی مد میں صوبے کے اخراجات کو بھی کم کیا جاسکے، اجلاس میں کئے گئے فیصلے انتخابات کی تیاریوں اور پرامن انعقاد کے سلسلے میں کسی بھی سطح پر کوئی کمزوری یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، علاؤالدین مری صوبے کے تمام دور دراز علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے قیام، پولنگ عملے، امیدواروں اور ووٹرز کی سیکیورٹی اور مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے،نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کا کابینہ اجلاس سے خطاب

جمعرات جون 21:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری کی زیرصدارت نگران کابینہ کا پہلا اجلاس جمعرات کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں آئندہ انتخابات کے انعقاد، صوبے میں امن وامان کی صورتحال سمیت کوئٹہ اور گوادر میں پانی کی قلت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کئی ایک اہم فیصلے کئے گئے، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر نے انتخابات کے انعقاد کے انتظامات، رجسٹرڈ ووٹرز، پولنگ اسٹیشنز، ڈی آر او، آراو اور اے آراو کی تعیناتی، انتخابی پروگرام سمیت مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ 29000انتخابی عملہ جن میں پولنگ آفیسرز اسسٹنٹ پولنگ آفیسرز شامل ہیں کی ٹریننگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ 4558 سینئرپریذائیڈنگ آفیسرز اور 4558 پریذائیڈنگ آفیسرز کی ٹریننگ جلد شروع ہوگی۔

(جاری ہے)

سیکریٹری داخلہ غلام علی بلوچ نے کابینہ کو خستہ حال پولنگ اسٹیشنوں کی بحالی، حساس پولنگ اسٹیشنوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ، انتخابی عملے، ٹرانسپورٹ کی فراہمی، انتخابی عملے کو سیکیورٹی کی فراہمی سمیت مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

کابینہ نے اس امر کو خوش آئند قراردیا کہ اس بار تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پرامن، صاف وشفاف انتخابات کے انعقاد میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی جائے گی،پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے تمام وسائل بروئے لائے جائیں گے، پولنگ اسٹاف سمیت انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گاجبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز جلد سیکورٹی کنٹیجنسی پلان تشکیل دیں گے۔

کابینہ نے پولنگ اسٹیشنوں میں کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے جلد حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا کہ مالی وسائل کی کمی کی صورت میں وفاق سے رجوع کیا جائے گا۔ کابینہ نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں تفتیشی آفیسران کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ صوبے میں جلد از جلد فرانزک لیب کے قیام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کو ناگزیر قرار دیا۔

کابینہ نے ہدایت کی کہ قومی دھارے میں دوبارہ شامل ہونے والے افراد کی سیکیورٹی اور ان کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہ صوبے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ کوئٹہ سیف سٹی منصوبے کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات تیز کئے جائیںگے جبکہ صوبے میں باہر سے آنے والے زائرین کو گوادر اور کراچی سے راستہ فراہم کرنے کی پالیسی وضح کی جائے گی تاکہ زائرین کو سیکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھا جاسکے جبکہ سیکیورٹی کی مد میں صوبے کے اخراجات کو بھی کم کیا جاسکے۔

نگران کابینہ نے کوئٹہ اور گوادر کو درپیش پینے کے پانی کے مسئلے کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ کوئٹہ شہر میں ٹینکر مافیا کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ غیرقانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کاروائی، بند سرکاری ٹیوب ویلوں کی بحالی کے علاوہ عوام میں پانی کا کفایت شعاری سے استعمال اور شہر کی صفائی میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا جبکہ گوادر میں پانی کی فراہمی کے لئے موجود ذرائع کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اجلاس میں قومی شاہراہوں بالخصوص کوئٹہ چمن اور کوئٹہ کراچی شاہراہوں پر ہونے والے حادثات کو روکنے کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو کردار ادا کرنے کے لئے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیاتاکہ اوور سپیڈنگ کو روکا جاسکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات نگران حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لئے سب کو ایمانداری اور لگن سے کام کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ انتخابات کی تیاریوں اور پرامن انعقاد کے سلسلے میں کسی بھی سطح پر کوئی کمزوری یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے تمام دور دراز علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے قیام، پولنگ عملے، امیدواروں اور ووٹرز کی سیکیورٹی اور مطلوبہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں جس سے ٹرن آؤٹ میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ امیدواروں کے خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کوئٹہ اور گوادر میں پانی کی قلت کو دور کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے بند سرکاری ٹیوب ویلوں کو جلد بحال کیا جائے اور عوام کو پانی کے درست استعمال، شہروں کی صفائی اور شجر کاری کے سلسلے میں آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس وقت بہت محدود ہے، ہم زیادہ سے زیادہ عوامی نوعیت کے کام کریں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔