یورپ کا ٹرمپ کو جواب: امریکی درآمدات پر بھی اضافی محصولات کا نفاذ

عمل درآ مد آ ج سے شروع ہو جا ئے گا ، ٹرمپ کو اقتصادی مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسے ’حفاظت پسندانہ فیصلے‘ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی،امر یکی مصنوعات پر بھی اربو ں ڈالر اضافی محصولات عا ئد کی جا ئیں گی،یورپی یونین

جمعرات جون 21:30

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) امریکا اور یورپی یونین کے مابین تجارتی جنگ میں یورپ نے بھی صدر ٹرمپ کو درآمدی محصولات کے حوالے سے مناسب جواب دے دیا ہے۔ اب امریکی مصنوعات کی یونین میں درآمد پر اربوں یورو کے نئے محصولات کا نفاذ آ ج جمعہ سے ہو جائے گا۔برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز سے یورپ سے امریکا درآمد کی جانے والی فولاد اور ایلومینیم کی مصنوعات پر 10 سے لے کر 25 فیصد تک جو نئے اور اضافی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ان کی وجہ سے برسلز اور واشنگٹن کے مابین تجارتی شعبے میں پہلے سے پایا جانے والا اختلاف رائے مزید شدید ہو گیا تھا۔

یورپی یونین کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو امریکا کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے نام پر ایسے ’حفاظت پسندانہ فیصلے‘ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

(جاری ہے)

لیکن اگر ’انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے تو یورپ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا‘ اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں امریکی مصنوعات کی درآمد پر بھی جوابا اضافی محصولات عائد کر دیے جائیں گے۔اب اس سلسلے میں یورپی یونین نے اپنا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے اور یورپ میں امریکی مصنوعات کی درآمد پر اربوں مالیت کے ’جوابی‘ اضافی محصولات عائد کر دیے جائیں گے۔

ان نئے درآمدی محصولات کی مالیت 2.8 ارب یورو بنتی ہے، جو 3.4 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہو گی اور ان نئے محصولات کا نفاذ آ ج جمعہ بائیس جون سے ہو جائے گا۔ شروع میں یورپی ماہرین کے اندازے یہ تھے کہ برسلز کی طرف سے صدر ٹرمپ کے اقدام کے جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی درآمدی محصولات عائد کرنے کا جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اس پر عمل درآمد غالبا یکم جولائی سے یا پھر جولائی کے مہینے ہی کی کسی دوسری تاریخ سے کیا جائے گا۔

لیکن اس بارے میں یورپی یونین کی تجارتی امور کی نگران خاتون کمشنر سیسیلیا مالم شٹروئم نے برسلز میں بتایا کہ ان محصولات کا نفاذ رواں ہفتے ہی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ نے امریکی مصنوعات کی درآمد پر جو اضافی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اپنی مالیت میں تقریبا اتنے ہی ہوں گے، جتنی مالیت کے امریکا نے یورپی فولاد اور ایلومینیم مصنوعات کی درآمد پر اضافی ٹیکس عائد کیے ہیں۔

اس طرح یورپ نے اس تجارتی رسہ کشی میں امریکا کے ساتھ ایک طرح سے اپنا حساب اب برابر کر دیا ہے۔ اس بارے میں سیسیلیا مارلم شٹروئم نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ کا فیصلہ عالمی تجارت کے بنیادی لیکن متفقہ قوانین کے خلاف تھا، وہ اصول اور ضابطے جو برسوں کی محنت کے بعد تیار کیے گئے تھے۔ اسی لیے یورپ بھی اپنے طور پر جوابی اقدامات پر مجبور تھا کہ یورپی یونین کے پاس اور کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔