سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس:

زلفی بخاری کے معاملے پر کسی نے فون نہیں کیا ،سیکرٹری داخلہ فائل لیکر آئے تھے،نگران وزیر داخلہ کی بریفنگ انتخابات میں دہشت گردانہ کارروائیاں ہو سکتی ہیں،عمران خان فاونڈیشن سیلاب زدگان کے لیے بنی تھی اور وہ اس کا حصہ بنے تھے،میڈیا سے گفتگو

جمعرات جون 21:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میںہوا جس میں نگران وزیر داخلہ اعظم خان بھی شریک ہوئے ۔اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا معاملہ زیر بحث آیا اور نگران وزیر داخلہ نے اس پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔

نگران وزیرداخلہ اعظم خان نے بتایا کہ زلفی بخاری کے معاملے پر عمران خان سمیت کسی نے مجھے فون نہیں کیا، سیکریٹری داخلہ فائل لے کر میرے پاس آئے تھے اور بتایا کہ زلفی بخاری عمران خان کے ساتھ عمرے پر جارہے ہیںاوروہ بلیک لسٹ پر ہیں جسکی وجہ سے ان کو روک لیاگیا ہے۔ انہوں نے بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست دی ہے۔

(جاری ہے)

نگران وزیر داخلہ کے مطابق سیکریٹری داخلہ نے انہیں بتایا کہ زلفی بخاری نے بیان حلفی دیا ہے کہ وہ عمرہ کر کے واپس آجائیں گے اور انہوں نے بیرون ملک جانے کے لیے ون ٹائم پرمیشن مانگی ہے۔

نگران وزیرداخلہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے زلفی بخاری کی فائل دیکھی تھی جس پر انہیں 6 روز کے لیے جانیکی اجازت دی گئی جبکہ میں نے فائل پر لکھا کہ زلفی بخاری کو واپس آنا ہوگا۔اعظم خان نے کہا کہ زلفی بخاری کیخلاف نیب میں آف شور کمپنیوں کا کیس ہے اور نیب نے ہی ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کی تھی جبکہ کابینہ کمیٹی نہ ہونے پر زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا گیا تھا تاکہ وہ ملک سے نہ جاسکیں۔

نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ را بلوچستان میں جو کر رہا ہے وہ سب کو معلوم ہے ملک میں د ہشتگردی کا خطرہ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے جبکہ انتخابات میں کسی سیاسی جماعت,ریلی یا جلوس کو نشانہ بنانے کے خطرات بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے 35 سال سے چلنے والا مسئلہ سب کے سامنے ہے ۔فوجی آپریشنز کے بعد حالات بہتر ہوئے ہیں مگر دہشتگردی کا خطرہ ابھی بھی ہے ۔

نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے پی ٹی آئی سربراہ عمران خان سے قربت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان فاونڈیشن سیلاب زدگان کے لیے بنی تھی اور وہ عمران خان کی بہن کی ریکویسٹ پر فاونڈیشن کا حصہ بنے تھے۔ اعظم خان نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی دیگر مختلف این جی اوز کا حصہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ 06-18/--75