توہین عدالت کیس :

سپریم کورٹ نے طلال چوہدری کی الیکشن کے بعد فیصلہ کرنے کی استدعا مسترد کر دی انتخابی عمل میں مصروف ہوں، الیکشن لڑنے دیں مہربانی ہوگی ،طلال چوہدری ،عدالت نے آئندہ سماعت پر استثنیٰ دیدیا

جمعرات جون 21:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سپریم کورٹ نے سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلا ل چوہدری کو توہین عدالت کیس میں آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دیدیا جبکہ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوے مقدمہ اٹھائیس جو ن کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے کا حکم دیدیا ہے ۔ جمعرات کے روز جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے طلال چوہدری کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی، سماعت کا آغاز ہوا تو طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضی نے عدالت کو بتایا گزشتہ سماعت پر حاضر نہ ہونے پر معافی چاہتا ہوں، طبیعت خراب تھی اور میری دو بھانجیوں کی شادی تھی،جسٹس گلزار احمد نے کہا جو گواہ حاضر ہے ان کا بیان ریکارڈ کروائیں،جنرل منیجر پیمرا محمد طاہر بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے تو طلال چوہدری کے وکیل کامران مرتضی نے جنرل مینیجر پیمرا سے سوال کیا کہ آپ کب سے جنرل منیجر پیمرا ہیں،جس پر محمد طاہر نے بتایا 2015 سے جنرل مینیجر کے عہدے پر کام کر رہا ہوں،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے گواہ سے غیر ضروری سوال نہ کریں،جی ایم پیمرا نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کو طلال چوہدری کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، کامران مرتضی نے سوال کیا طلال چوہدری کے خط پر جواب ریکارڈ چیک کر کے دیا جس پر محمد طاہر نے بتایا کہ طلال چوہدری کے خط کا جواب ریکارڈ چیک کرنے کے بعد دیا۔

(جاری ہے)

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا گواہ سے بطور استغاثہ سوال کرنا چاہتا ہوں،جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے وکیل نے تو کوئی سوال نہیں کیا آپ نے سوال میں کیا پوچھنا ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا گواہ سے ریکارڈ کی درستگی سے متعلق سوال کرنا ہے،گواہ محمد طاہر نے عدالت کو بتایا طلال چوہدری کے خلاف توہین آمیز بیانات پر کسی نے شکایت نہیں کی جبکہ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات پر شکایات پیمرا کو موصول ہوئیں،وکیل استغاثہ نے سوال کیا کیا طلال چوہدری کی توہین آمیز تقاریر کے ٹرانسکرپٹ درست ہیں، جس پر گواہ نے جواب دیا ٹرانسکرپٹ کی تصدیق میرا کام نہیں،ٹرانسکرپٹ کی تصدیق مانٹرینگ سیکشن کر سکتا ہے،جی ایم پیمرا محمد طاہر کا بیان مکمل ہونے پر عدالت نے کامران مرتضٰی سے دیگر گواہان بارے استفسار کیا جس پر کامران مرتضی بولے عید کی تعطیلات کے باعث گواہ نہیں آسکے، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے عید کی تعطیلات ختم ہو گئی ہیں،،طلال چوہدری کے وکیل نے مقدمے کو 25 جولائی کے بعد رکھنے کی استدعا کی،جسٹس گلزار احمد نے کہا اس مقدمے کا فیصلہ بھی کرنا ہے،25 جولائی کے بعد تک کیس ملتوی نہیں کرسکتے،اسی دوران طلال چوہدری روسٹرم پر آئے اور عدالت سے گزارش کی کہ میری گزارش بھی سن لیں،جسٹس گلزار احمد بولے ہمیں آرڈر تو لکھوانے دیں، طلال چوہدری نے کہا سر آپ پیار سے بھی ڈانٹتے ہیں تو باہر غصے سے ڈانٹنے کی خبر لگ جاتی ہے، الیکشن لڑنے دیں مہربانی ہوگی اگر کیس الیکشن کے بعد رکھ لیں،انتخابی عمل میں مصروف ہوں،جسٹس گلزار احمد نے کہا آپ سیاستدان ہیں ایک وقت میں بہت سے کام کر سکتے، چند روز میں کیس کو نمٹا دیں گے، عدالت نے طلال چوہدری کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثیٰ دیتے ہوئے سماعت 28 جون تک ملتوی کر دی۔

۔