پرویز مشرف کے تمام بنک اکائونٹس منجمد،اپنے معاملات اہلیہ کے اکاونٹس سے چلا رہے ہیں،کاغذات نامزدگی میں انکشاف

جمعرات جون 21:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) سابق صدر پرویز مشرف کو 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت تو نہیں ملی تاہم سابق صدر کے کاغذات نامزدگی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کے تمام بنک اکائونٹس منجمد ہیں اور وہ اپنے معاملات اہلیہ کے اکاونٹس سے چلا رہے ہیں تاہم سابق صدرپرویز مشرف نے 30 جون 2018 تک ملک کے اندر کل اثاثے 3 کروڑ 42 لاکھ 93 ہزار روپے ظاہر کیے ہیں، ریٹرننگ افیسر کے پاس جمع دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف کے نام پر اندرون و بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے پرویز مشرف نے پاکستان میں تمام جائداد اہلیہ کے نام پر ظاہر کی ہے جبکہ انہوں نے چک شہزاد فارم ہائوس کی قیمت 2 کروڑ 37 لاکھ روپے ظاہر کی ہے ، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ زمزمہ اسٹریٹ ڈی ایچ اے کراچی میں مکان کی قیمت 50 لاکھ روپے سابق صدر نے ظاہر کی ہے ، جبکہ بیرون ملک ڈائون ٹائون دبئی میں اپارٹمنٹ کی قیمت 9 کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے، دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ پرویز مشرف اندرون و بیرون ملک 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کی گاڑیوں کے مالک ہیں، پرویز مشرف کے مختلف بینک اکائونٹس میں 2 کروڑ 12 لاکھ روپے موجود ہیں تاہم پرویز مشرف کے نام پر تمام بینک اکائونٹس منجمد ہیں اور ان کی اہلیہ صہبا مشرف کے نام پر بینک اکائونٹ میں 3 کروڑ 80 لاکھ روپے موجود ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ اہلیہ کے نام پر بینک الفلاح کے 30 لاکھ روپے کے حصص بھی ہیں، ان کی اہلیہ کے پاس 15 لاکھ روپے مالیت کا تیس تولہ سونا بھی موجود ہے سابق صدر پرویز مشرف کے زیر استعمال فرنیچر کی قیمت 50 لاکھ روپے درج کی گئی ہے دوسری طرف سابق صدر کے بیان حلفی میں پیشہ فری لانس لیکچرر درج کیا گیا ہے اور انہوں نے اسے ہی اپنا ذریعہ معاش بتایا ہے۔