پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی 65 ویں سالگرہ کی مرکزی تقریب بیگم نصرت بھٹو ملٹی پرپز ہال لاڑکانہ میں منعقد کی گئی

تاریخ کا جبر ہے کہ عام انتخابات میں ہمارا مقابلہ ضیا اور مشرف کی باقیات کے ساتھ ہے یہ بات دوسری ہے کہ یہ باقیات فرنچائیز بن چکی ہیں، بلاول بھٹو ایک کا مرکز جاتی امرا اور دوسرا بنی گالا میں ہے دونوں کے درمیان آمروں کی حقیقی وارث ہونے کا مقابلہ جاری ہے ایک نے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرکے جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کردیا تو دوسرے نے بادشاہت کو جمہوریت سمجھا، تقریب سے خطاب

جمعرات جون 22:20

اڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ملک کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی 65 ویں سالگرہ کی مرکزی تقریب بیگم نصرت بھٹو ملٹی پرپز ہال لاڑکانہ میں منعقد کی گئی جس میں بلاول بھٹو زرداری اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے 65 پائونڈ کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تاریخ کا جبر ہے کہ عام انتخابات میں ہمارا مقابلہ ضیا اور مشرف کی باقیات کے ساتھ ہے یہ بات دوسری ہے کہ یہ باقیات فرنچائیز بن چکی ہیں جن میں سے ایک کا مرکز جاتی امرا اور دوسرا بنی گالا میں ہے دونوں کے درمیان آمروں کی حقیقی وارث ہونے کا مقابلہ جاری ہے ان کا مقابلہ شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے جانثار مقابلے کریں گے، ایک شخص لوٹوں کا تاج محل تیار کر رہا ہے تو دوسرا ووٹ کی عزت کے پیچھے چھپ رہا ہے، ایک نے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرکے جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کردیا تو دوسرے نے بادشاہت کو جمہوریت سمجھا۔

(جاری ہے)

ایک نے آمریت کی گود میں جنم لیا تو دوسرے نے طالبان کے کندھوں پر چڑھ کر وزیراعظم بننا چاہتا ہے، ایک نے اداروں میں جنگ شروع کی تو دوسرا گالی اور گولی کو اپنا ہتھار سمجھتا ہے، ایک پارلیامنٹ کو اپنا غلام سمجھتا تھا تو دوسرا پارلیامنٹ پر لعنتیں بھیجتا رہتا یہ دونوں تاریخ کے وہ مہرے ہیں جو سیاست میں پتلی تماشے کا کھیل کھیل رہے ہیں ان سیاسی مچھروں نے ایک مرتبہ سندھ پر حملہ کردیا سندھ میں اس وقت بھی ایسے سیاسی مچھروں کے لائین لگے ہوئے ہین لیکن سندھ دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں نے ان کے حملوں سے نمٹنے کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں، وہ بھینس بدل کر عوام کو گمراہ کررہے ہیں جو چور دروازے سے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ پہلے بھی سندھ میں آئے اور شکست ان کی مقدر بنی اور اب سندھ کے عوام نے انہیں پہچان لیا ہے ایک مرتبہ پھر عوام انہیں ووٹ کی طاقت سے مزہ چکھائیں گے تو انہیں پتہ چلے گا۔

انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینطیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام کے غضے کے باوجود ہم نے جمہوریت کو بہترین انتقام سمجھا آج میں اس جمہوریت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سینر جمہوریت منظور نہیں اگر ادارے سیاسی کردار ادا کریں گے تو ہمیں سیاسی ادارے منظور نہیں، اگر پیپزل پارٹی کے امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں پر دباؤ ڈال کر دیگر پارٹیوں میں شمولیت کروائی گئی تو ہم ایسی کٹ پتلی جمہوریت کو نہیں مانیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج لاڑکانہ سے فاٹا تک مسنگ پرسنز کی مائیں رو رہی ہیں ہمیں ایسی خوف کی جمہوریت منظور نہیں، ہمیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت چاہیے جسے قائم کرنے کے لیے میرا اور آپ کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آخری دم تک عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا اور نہ ہی عوام نے ان کا ساتھ چھوڑا اس کی زندگی، سیاست، قیادت اور شہادت بینظیر تھی۔

آج پورے پاکستان اور پوری دنیا اس بات کا گواہ ہے کہ بھٹو از کو ختم کرنے والے بھٹو ازم کو ختم نہ کرسکے اس ملک کے غریب عوام کی تیسری نسل بھٹو ازم کا پرچم ہاتھوں میں تھامے کھڑا ہے آج ایک مرتبہ پھر ان قوتوں کو للکار رہا ہے کہ جن کا خیال تھا کہ بھٹو کے نسل کو ختم کرنے سے وہ بھٹو کے نظریے کو ختم کریں گے جو نسل آج بھی قائم ہے اور وہی نظریہ آج بھی قائم ہے ان لوگوں کو تاریخ کے ہاتھوں شکست ہوئی اور بھٹو ازم نظریے کی جیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آج اس بات پر مخالفین اور دشمن بھی متفق ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے جو بھٹو ازم کی فتح ہے ہم شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے پیروکار ہیں، ایک مرتبہ پھر مک میں عوام کے ووٹ کی طاقت سے انتخابات ہورہے ہیں۔ ہم اصولوں کی سیاست کرتے ہیں، ہم بھائی چارے کی سیاست اور احتساب کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم اس فلسفے کے وارث ہیں جو عوام کی تقدیر بل کر اسے اپنے تقدیر کا مالک بنائے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی 50 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ مظلوموں کو جب بھی حقوق ملے وہ پیپلز پارٹی کے دور میں ملے، سندھ میں ترقی ہوئی تو پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئی یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ظالم، آمر یا ان کی کٹ پتلیاں آج تک عوام کا رشتہ پیپلز پارٹی سے توڑ نہ سکے اور نہ اس رشتے کو کمزور کرسکے ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر ان کٹ پتلیوں نے ایک نئے اتحاد کے نام پر اس رشتے پر حملہ کرنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اب ان کٹ پتلیوں کا تماشہ نہیں چلے گا ان کے چہروں سے پردے اٹھ چکے اور پیپلز پارٹی کا تیر کمان سے نکل چکا جو ان کا تب تک پیچھ کرتی رہے گی جب تک وہ سندھ دھرتی کا سودہ کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی موسم گذر جائے گا اور موسمی پرندوں بھی اڑ جائیں گے یہاں وہ رہیں گے جو دھرتی کے لیے خون دیتے ہیں اور خون دینا کا حوصلہ رکھتے ہیں، آج شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر عوام کو وعدہ کرنا ہوگا کہ کہ ملک کے مظلوم عوام، پاکستان پیپلز پارٹی اور بینظیر کا ساتھ دیں گے۔