ٹھٹھہ بارایسوسی ایشن کے وکلا کے گھروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، وکلا برادری کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

وکلا برادری مسنگ پرسن کیس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ پاکستانیوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی پریقین رکھتے ہیں، وکلاء رہنماء

جمعرات جون 22:20

ٹھٹھہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون2018ء) ٹھٹھہ بارایسوسی ایشن کے وکلا کے گھروں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ وکلا برادری کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بار ایسوسی ایشن ٹھٹھہ نے اعلان کردیا کہ وکلا برادری مسنگ پرسن کیس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ پاکستانیوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی پریقین رکھتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار بار ایسوسی ایشن ٹھٹھہ کے جنرل سیکرٹری عبدالرحیم میمن، لیاقت جماری منصور بحرانی شبیر کمبھار ناصر عباسی سرور پلیجو سرویچ عباسی اعجاز سولنگی دیگر وکلا نے پریس کلب مکلی پراحتجاج کرتے ہوئے کیا۔ وکیل شبیر احمد کمبھارنے کہاکہ سندھ کے گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے پر مجھے اور میرے بھائیوں کے گھروں پر فائرنگ کرکے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وکلا برادری سخت لفظوں میں مذمت کرتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا ٹھٹھہ میں قانون سے کھلواڑ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ایڈووکیٹ شبیر احمد نے کہا کہ مسنگ پرسنز کیس سے ہٹانے کیلئے حملے کروائے جارہے ہیں جبکہ ایڈووکیٹ ناصر عباسی کے بھائی کو پولیس نے عدالت کے احاطے سے گرفتار کرکے غائب کردیا ہے جس کو جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔ وکلا رہنمائوں نے ٹھٹھہ میونسپل کے ملازم علی اصغرعرف بابلا شاہ کو اقدام خودکشی پر اکسانے والے ایڈمنسٹریٹر خلیفہ نذیر احمد اور دیگر ملوث افراد کی عدم گرفتاری کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا ۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ٹھٹھہ کی وکلا برادری کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو احتجاج کا سلسلہ ملک کی تمام بار ایسوسی ایشن تک وسیع کریں گے۔