مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق برطانوی پارلیمنٹ کا اجلاس

جمعہ جون 07:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق برطانوی پارلیمنٹ کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا۔کشمیر سے متعلق آل پارٹی پارلیمنٹیری گروپ کے چیئر مین رکن پارلیمنٹ کرس لیسلے نے اجلاس کی صدارت کی۔لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر سید ابن عباس نے اجلاس کو مقبوضہ کشمیر میں حالیہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا معاملہ پر زور انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ وہ ان مظالم کا نوٹس لیں اور مظلوم کشمیریوں کیلئے اپنی آواز بلند کریں۔سید ابن عباس نے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کو ناقابل بیاں انسانی المیہ قرار دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔

(جاری ہے)

ہائی کمشنر نے کہا کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے قراردادوں کو تسلیم کیا ہے لیکن اس پر عملدر آمد نہیں کر رہا ۔اس کے علاوہ بھارت پاکستان کیساتھ دو طرفہ مذاکرات سے بھی انکار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد،غیر قانونی تسلط،جبرا گمشدگی اور پیلیٹ گنز کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت کے مظالم کی کوئی انتہاء نہیں۔رکن پارلیمنٹ کرس لیسلے نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کشمیر کے حوالے سے رپورٹ کو جلد حتمی شکل دی جائیگی۔

انہوں نے رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی ہائی کمشنر کے تعاون کو سراہا۔اس موقع پر ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔اجلاس میں برطانوی ارکان پارلیمنٹ کرس لیسلے، جیک بیرٹن،ڈیبی ابراہام،عمران حسین،سارہ چیمپئین، تنمن جیت سنگھ،لیز میکلنز، خالد محمود،لارڈ نذیر احمد،ورنون کوکر،سٹیفن ٹمز،جم میک ماہن،فیصل رشید اور جولی کوپر اور چیئر مین جے کے ایس ڈی ایم آئی نے شرکت کی۔