13 سے قبل ملک کا ہر شعبہ تباہی کا شکار تھا‘ معیشت کو بحال کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پرتوانائی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی گئی ‘ ترقی کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد ہوگئی‘ملک کو اندھیر وں سے نکال کر ابھرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کیا‘ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سی پیک جیسا انقلابی منصوبہ شروع کیا‘ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام خیبر پختونخوا کے عوام کا دھوکا دیا اور اب ایک کروڑ نوکریاں اور 100دن کا پلان دوسرا ڈرامہ ہے‘

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما احسن اقبال اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی پریس کانفرنس

جمعہ جون 07:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی پانچ سالہ کارگردگی کے حوالے سے کہا ہے کہ 2013 سے قبل ملک کا ہر شعبہ تباہی کا شکار تھا‘ معیشت کو بحال کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پرتوانائی اور انفراسٹرکچر میں بہتری لائی گئی، ترقی کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 6 فیصد ہوگئی، ملک کو اندھیر وں سے نکال کر ابھرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کیا، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سی پیک جیسا انقلابی منصوبہ شروع کیا‘ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام خیبر پختونخوا کے عوام کا دھوکا دیا اور اب ایک کروڑ نوکریاں اور 100دن کا پلان دوسرا ڈرامہ ہے‘ نوے کی دہائی میں ہماری ترقی کی رفتار بھارت اور بنگلہ دیش سے بہت بہتر تھی آج بھارت اور بنگلہ دیش پاکستان سے بہت آگے نکل چکے ہیں، ہمیں ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے تاکہ ہم اس فرق کو مٹا سکیں‘ موجودہ ملکی معاشی صورتحال سیاسی بے یقینی کے نتیجہ میں لمحہ فکریہ ہے۔

(جاری ہے)

جمعرات کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفر نس کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال اور سابق وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ پچھلے 66سالوں میں 18ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی تھی جبکہ (ن)لیگ کی حکومت نے 4سال میں 10ہزار میگا واٹ بجلی پید ا کی ہے۔ مختلف ترقیاتی پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور سڑکوں سمیت پانی کے منصوبے مکمل کیے۔

ملک میں 45 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام کیا۔ 1750 کلومیٹر موٹر ویز کو پایہ تکمیل تک پہنچایا،ان کا کہنا تھا کہ ویڑن 2025 پاکستان کو خطے کا مرکز بنا دے گا۔ اب پاکستان کو صنعتی معیشت میں تبدیل کرنا ہے صنعتی معیشت بننے کے لیے توانائی کے منصوبے بہت ضروری ہے۔ عمران خان کے پی کے میں ایک بھی یونیورسٹی نہ بنا سکے،وفاقی حکومت نے ہر ضلع میں یونیورسٹیاں اور کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔

بی بی سی کو انٹرویو میںعمران خان کے پاس کے پی کے میں یونیورسٹیاں بنانے کے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔۔عمران خان سوالوں کے جواب میں کہتے ہیں میں فیس بک پر بہت مقبول ہوں۔انہوں نے کہا کہ کیا کوئی اپنا موٹر سائیکل کسی ایسے شخص کے حوالے کر سکتا جس نے کبھی اسے ہاتھ ہی نہلگایا ہو اگر موٹر سائیکل چلانے کے لئے تجربہ ضروری ہے تو کیا 20 کروڑ عوام کے ملک کو چلانے کے لئے کسی تجربہ کی ضرورت نہیں عمران خان نے آج تک ایک بلدیاتی ادارہ نہیں چلایا اور وہ دعوی ملک بدلنے کا کرتے ہیں‘ کے پی حکومت کی کارکردگی ان کے اناڑی پن کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ وفاقی حکومت نے فاٹامیں یونیورسٹی شروع کی۔

کے پی میں 8 نئی یونیورسٹیوں کے منصوبے شروع کئے جبکہ صوبائی حکومت ایک بھی یونیورسٹی نہ بنا سکی‘ ملک کے مختلف حصوں میں 45 نئی یونیورسٹیاں اور کیمپس بنائے۔نوجوانوں کے چیمپئین بننے والے عمران خان نے کے پی میں نوجوانوں کے لیے کچھ نہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی لائی۔وفاقی حکومت نے چین کے ساتھ معاشی شراکت داری قائم کی۔

آج دنیا کا ہر ملک پاکستان کے سی پیک منصوبے میں شامل ہونا چاہتا ہے،،سی پیک نے پاکستان کو دنیا کے ساتھ مثبت حوالے سے جوڑا ہے۔سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آئندہ الیکشن عوام کا امتحان ہے۔فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ ترقی کا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں یا ترقی کو کریش کرنا چاہتے ہیں ۔اگر حکومت میں تبدیلی آئی تو 45 ارب ڈالر مالیت کے ترقی کے منصوبے خطرے میں پڑ جائیں گے۔

ہم نے ترقی کی شرح 3 سے بڑھا کر 6 فیصد کی۔۔عمران خان جن ایک کروڑ نوکریوں کی بات کرتے ہیں ان کے لیے ترقی کی شرح 8 فیصد پر لے جانی ہو گی، تحریک انصاف 13 سینیٹرز کے ساتھ کونسی ترقی یا قانون سازی کریں گے۔ پی ٹی آئی بتائے وہ سینٹ میں اکثریت کے لئے 40 اضافی ووٹ کہاں سے لائے گی وہ لازما پی پی پی کے ساتھ سینٹ چئرمین کے انتخاب کی طرح اتحاد کرے گی اس لئے عمران کو ووٹ دینا زرداری کو ووٹ دینا ہے۔

ملک کو چلانے کے لیے تجربہ کار لوگ چاہئے۔۔پاناما کے نام پر ملک میں تھیٹر لگایا گیا۔ہمیں سیاسی عدم استحکام سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمارے خلاف یکطرفہ احتساب چل رہا ہے۔عوام نے یکطرفہ احتساب کو مسترد کر دیا ہے۔ زرداری صادق و امین اور نوازشریف مجرم ، عوام ایسے احتساب کو نہیں مانتے۔ختم نبوت قانون کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔

سینٹ میں پی ٹی آئی نے ختم نبوت کے پرانے فارم کی بحالی کے خلاف ووٹ دیا تھا جبکہ مسلم لیگ (ن) نے حمایت میں ووٹ دیا ‘ ختم نبوت ہر مسلمان کے عقیدے کی اساس ہے اس پر قوم کو تقسیم کرنے والے سیاسی مقاصد کے لئے ایسا کر رہے ہیں‘ ملک کے اندر بے یقینی پیدا کی جا رہی ہے‘ ملک کے مسائل کا حل مضبوط حکومت ہے تاکہ دہشت گردی اور معاشی بے یقینی کا علاج کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو استحکام بخشنا ہے تو مسلم لیگ ن کی پالیسیوں کے تسلسل کو ووٹ دیں۔