ڈپٹی میئر رفعت جاوید کی زیر صدارت میٹروپولیٹن کارپویشن کا اجلاس ‘ اراکین نے ایم سی آئی انتظامیہ کی شہربھر میں موجود غیر قانونی کمرشل ہائیڈرینٹ پلانٹس،ٹیوب ویلز اورواٹر بورنگ کو ''ریگولرائز ''کرنے کی پیش کردہ تجاویز کو مسترد کردیا

جمعہ جون 07:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں طلب کردہ میٹروپولیٹن کارپویشن (ایم سی آئی )کے 24ویں اجلاس میںاراکین نے ایم سی آئی انتظامیہ کی شہربھر میں موجود غیر قانونی کمرشل ہائیڈرینٹ پلانٹس،ٹیوب ویلز اورواٹر بورنگ کو ''ریگولرائز ''کرنے کی پیش کردہ تجاویز کو مسترد کردیا اور انہیں سر بمہر کرنے کی رائے دی ہے۔

جمعرات کو ڈپٹی میئر رفعت جاوید کی زیر صدارت منعقد کردہ میٹروپولیٹن کارپویشن (ایم سی آئی )کے 24ویں اجلاس کے دوران شہر بھر میں قائم غیر قانونی کمرشل ہائیڈرینٹ پلانٹس اورگھریلو استعمال کیلئے کی جانے والی واٹربورنگ پر ٹیکسسز عائد کرنے اورکارپوریشن سے این اوسی حاصل کرنے کے ایجنڈا پر اتفاق نہ ہوسکا اورشعبہ واٹر سپلائی کی جانب سے مذکورہ معاملہ پر پیش کی گئی نئی پالیسی کو بھی ایوان نے مسترد کردیا۔

(جاری ہے)

قائد حزب اختلاف علی اعوان نے کہا کہ پانی کے بحران پر ہم گزشتہ ڈھائی سالوں سے ''بول ''رہے ہیں مگر ہماری کسی نے نہیں سنی آج سپریم کورٹ کے ''کہنے ''پر کارپوریشن نے ایک ماہ میں 3اجلاس طلب کرلئے،غیرقانونی ہائیڈرینٹ پلانٹس کو ریگولرائز اورنئے ہائیڈرینٹ پلانٹس کو این اوسی جاری کرکے '''پانی چورمافیا ''کو پانی چوریکیدعوت دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اورایم سی آئی کو اپنے ہائیڈرینٹ پلانٹس لگانے چاہیئں تاکہ شہریوں کو پانی جیسی بنیادی سہولتکی فراہمی میں دشواری نہ ہو۔

ممبران نے کہاکہ ایک رات میں غیر قانونی ہائیڈرینٹ پلانٹس کو ریگولرائز کرنے کی سمری تیار کرلی گئی جس پر کسی بھی یونین کونسل کے چیئر مین سے کوئی رائے طلب نہیںکی گئی۔۔پاکستان تحریک انصاف کے ممبران نے غیر قانونی ہائیڈرینٹ پلانٹس کو ریگولرائز کرنے کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر واٹر سپلائی جمیل بٹ نے ایوان کو بریف کیا کہ شہربھر میں موجو دہائیڈرینٹ پلانٹس کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے انہیں ایک لاکھ سے 50ہزارروپے تک لم سم فیس کارپوریشن کو ادا کرکے این اوسی حاصل کرسکتے ہیں جبکہ پانی کے نجی ٹینکرز کی مد میں بھی شہریوں سے دوہزارروپے تک وصول کئے جاسکیں گے اس کی خلاف ورزی پر ہائیڈرینٹ پلانٹس سیل کردئے جائیں گے جبکہ ان ہائیڈرینٹ پلانٹس کی نگرانی اوران پر چیک اینڈ بیلنس متعلقہ پولیس اسٹیشنز کریں گے۔

ڈپٹی میئر رفعت جاوید نے کورم پورانہ ہونے پر اجلاس ملتوی کردیا۔