حکومتی عدم منظوری کی وجہ سے جرمن ہتھیاروں کی برآمدات میں کمی

جمعہ جون 09:20

برلن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) جرمنی نے گزشتہ برس اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں کم ہتھیار برآمد کیے، جس کی وجہ یہ رہی کہ برلن میں وفاقی حکومت کی طرف سے ہتھیاروں کی ان برآمدات کی قبل از وقت لازمی منظوری کی شرح میں قریب نو فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہلکے اور بھاری ہتھیار تیار کرنے والے جرمن ادارے اپنی جو مصنوعات بیرون ملک برآمد کرتے ہیں، ان کے لیے انہیں حکومت سے لازمی طور پر منظوری لینا ہوتی ہے۔

2017ء میں جرمن حکومت نے ان ہتھیاروں کی برآمد کے قریب 9 فیصد سودوں کی منظوری دینے سے انکار کر دیا، جس کے باعث جرمن اسلحہ جات کی برآمد میں بھی کمی دیکھی گئی۔روئٹرز نے جرمن کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے مندرجات کا انتہائی قابل اعتماد حکومتی ذرائع کے ذریعے حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنوری میں تیار کیے گئے عبوری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی نے 2017ء میں مجموعی طور پر 6.24 بلین یورو کے ہتھیار برآمد کیے۔

(جاری ہے)

یہ مالیت 7.23 بلین امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے اور 2016ء کے مقابلے میں ان برآمدات کی مالیت میں گزشتہ برس قریب 600 ملین یورو کی کمی ہوئی۔سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں قائم امن پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے سِپری کے مطابق جرمنی کا شمار ہتھیار برآمد کرنے والے دنیا کی5 بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جرمنی کے ماضی اور دوسری عالمی جنگ کی وجہ سے جرمن عوام کے لیے ہتھیاروں کی بیرون ملک برآمد ایک بہت ہی حساس موضوع بھی ہے۔

جرمن ساختہ چھوٹے ہتھیاروں کی برآمد کے حوالے سے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ چھوٹے ہتھیاروں کی جرمنی سے برآمد میں گزشتہ برس 2016ء کے مقابلے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ان برآمدات کی سالانہ مالیت 47.8 ملین یورو رہی اور ایسے سب سے زیادہ جرمن ہتھیار فرانس نے خریدے۔