ن لیگ کی حکومت نہ رہی تو کیا ہوا؟

ن لیگ کی حامی شخصیات نے ملک کی معاشی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 11:01

ن لیگ کی حکومت نہ رہی تو کیا ہوا؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن نے حکومت میں رہ کر عوام کا جتنا پیسہ لُوٹنا تھا لُوٹ لیا لیکن اب مسلم لیگ ن کے حامیوں نے بھی ملک کی معاشی کمزوریوں سے منظم فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی حامی سیاسی ، تجارتی شخصیات اور بیورو کریٹس کا ملکی معاشی کمزوریوں سے منظم اندازمیں فائدہ اٹھانے کا خدشہ ہے ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا اور سخت پکڑ کی صورت میں اندرون ملک اوربیرون ملک سرمائے کے انخلا،کرنسی اوراسٹاک ایکسچینج میں سٹے بازی کا سہارا لیا جائے گا جس کے ٹریلرچلانا شروع کر دیئے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ،،آئی ایم ایف اوردیگرمالیاتی اداروں سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لئے لابنگ کرنے میں مصروف پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کو بھی بیرون ملک میں مقیم سیاستدانوں سے تعاون ملنے کا اندیشہ بھی ہے ۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا کہ باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت ملکی معیشت کو سنگین چیلنجز کاسامنا ہے جس میں ایک جانب تجارتی وکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے ،جس میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان سے مزید اضافے کا خدشہ ہے جبکہ بیرونی قرضوں کی واپسی کی مد میں ماہانہ کروڑوں ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جس کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر گررہے ہیں اور پاکستانی روپے کو بھی امریکی ڈالراوردیگرکرنسیوں کے مقابلے میں سخت دباؤ کا سامنا ہے ۔

اس صورتحال میں معاشی ماہرین اور مالیاتی اداروں کی جانب سے واحد راستہ مزید قرضوں کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع ہی بتایا جارہا ہے ۔دوسری جانب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے ٹیررفنانسنگ اور منی لانڈرنگ الزامات کے تحت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جس پر 24 جون کو نظر ثانی کی جائے گی ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے کی صورت میں پاکستان کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سابق حکومت کی ملک کے اندر اور بیرون ملک موجود اہم شخصیات نے ملک کی انہی معاشی کمزوریوں کو استعمال کرنے کی بھرپور تیاری کرلی ہے ۔