پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر 300 رینجرز تعینات

عمران خان کی سکیورٹی پر ایک کروڑ سے زائد اخراجات ، ادائیگی قومی خزانے سے کی جائے گی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 11:35

پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر 300 رینجرز تعینات
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 جون 2018ء) : عام انتخابات کی آمد سے قبل اور انتخابات میں جیتنے سے پہلے ہی ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ سکیورٹی  اہلکار پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات کرنے کے احکامات پر عملدرآمد کی صورت میں اس سکیورٹی پر ماہانہ ایک کروڑ روپے خرچ آئے گا جس کی ادائیگی قومی خزانے سے کی جائے گی۔

پولیس ذارئع کے مطابق تحریک انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کے سربراہ کی رہائش گاہ بنی گالہ پر وفاقی پولیس کی ایک ریزرو پہلے ہی مستقل طور پر تعینات رکھی گئی ہے جس میں دس پولیس اہلکار متعلقہ تھانہ بنی گالہ جبکہ باقی سکویرٹی ڈویژن پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔ ان تمام سکیورٹی اہلکاروں کو تین شفٹوں میں باری باری تبدیل بھی کیا جاتا ہے جب کے تمام تر اخراجات قومی خزانے سے ادا ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

تاہم ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق احمد نے تین دن قبل عمران خان کی رہائش گاہ پر تین سو رینجرز اہلکاروں کی نفری سکیورٹی کے نقطہ نظر کے تحت تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جن پر مجموعی طور پر ماہانہ صرف ہر اہلکار کی بیس سے پچیس ہزار روپے کی ایک بنیادی اضافی تنخواہ ادا کرنے پر ساٹھ سے ستر لاکھ روپے ملک کے قومی خزانے سے ادا کیے جائیں گے اور اس طرح یومیہ دو سے ڈھائی لاکھ روپے صرف رینجرز کے تین سو سکیورٹی اہلکاروں کو ادائیگی کی مد میں خرچ ہوں گے۔

اس کے علاوہ مذکورہ سکیورٹی سٹاف کو پاکستان رینجرز کی جانب سے ٹرانسپورٹ اور طعام کی فراہم کی جانے والی سہولت پر الگ سے لاکھوں روپے کے اخراجات ہوں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ایسے میں ملکی تاریخ میں عمران خان وہ واحد سیاسی رہنما اور سیاسی جماعت کے سربراہ بن جائیں گے جنہیں بغیر کسی سرکاری عہدہ پر ہونے کے باوجود اتنے وسیع پیمانے پر سرکاری خرچ پر سکیورٹی فراہم ہو گی۔

اس ضمن میں وفاقی پولیس کے سینئیر آفیسر نے قومی اخبار کو بتایا کہ انتخابات سے قبل تو دور انتخابات جیتنے کے بعد بھی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ حتیٰ کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو بھی انتخابات جیتنے سے قبل کبھی اتنی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ نہ ہی کبھی اسلام آباد کے کسی ڈپٹی کمشنر نے تین سو رینجرز اہلکاروں کو تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، مولانا غفور حیدری اور سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ پر بھی دہشتگردی حملے ہو چکے ہیں لیکن انہیں اس قدر کبھی بھی سرکاری سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ قومی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس سال قبل سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ میں شہید کر گیا لیکن انہیں بھی اس قدر وسیع پیمانے پر سرکاری خزانے سے سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔

اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے عمران خان کو دی جانے والی سکیورٹی کے احکامات جاری کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے ہی پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر تین سو رینجرز اہلکاروں کو تعینات کرنے کے لیے سرکاری مراسلہ بھیجا ہے۔ عمران خان کی رہائش گاہ پر تعینات کی گئی سکیورٹی اور اس پر آنے والے اخراجات اور ان اخراجات کی قومی خزانے سے ادائیگی پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا ہے ۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان تو پروٹوکول اور اس طرح کی شاہی سکیورٹی کے مخالف تھے لیکن اب وہ خود ہی ملک میں بغیر کسی سرکاری عہدے کے قومی خزانے کے خرچ پر سب سے زیادہ سکیورٹی رکھنے والے پارٹی سربراہ بن گئے ہیں جو کہ ان کے حامیوں کے لیے بُری خبر ہے ، کیونکہ اگر عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی یہی طریقہ کار اپنایا تو ان میں اور ملک پر حکومت کرنے والے سابق حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔