لبریشن فرنٹ کی طرف سے یاسین ملک اور دیگر حریت رہنمائوں کی نظربندی کی شدید مذمت

جمعہ جون 11:40

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) جموںو کشمیرلبریشن فرنٹ نے پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک کی گرفتاری اور انہیں کوٹھی باغ پولی اسٹیشن منتقل کرنے کی شدید مذمت کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حریت رہنمائوں سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق،، محمد اشرف صحرائی، ہلال احمد وار، بلال احمد صدیقی ، مختار احمد وازہ اور ظفر اکبر بٹ کی بھی گھروں اور تھانوں میں نظر بند ی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے حریت قائدین کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیاجاسکتا ۔

انہوںنے کہاکہ بھارتی فوجیوںکے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل کے خلاف پر امن احتجا ج سے روکنے کیلئے حریت رہنمائوں کی نظربندی سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد سے روکنا اور ان پر آئے روز پابندیاں عائد کرنے والوںکو جمہوریت کے دعوے زیب نہیں دیتے ۔ترجمان نے پلوامہ، شوپیان اور کولگام سمیت مختلف اضلاع میں بھارتی فورسز کے کریک ڈائون کے دوران نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد ،گھروں میں توڑپھوڑاور جوانوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیاکہ ان ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کو اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روکا نہیں جاسکتا بلکہ اس سے کشمیریوں کے حوصلے مذید بلند اور عزائم مذید پختہ ہورہے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری اپنی پر امن جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ظلم و جبر ،تعدی اور تعذیب کے خلاف یہ جائز اور پرامن مزاحمت و جد وجہد بہر صورت جاری رہے گی اورتمام تر بھارتی مظالم کا مردانہ مقابلہ کیا جائے گا ۔ ادھر جموں و کشمیر سالویشن نے ایک بیان میں پارٹی چیئرمین ظفر اکبر بٹ کی گھر میں نظربندی کی مذمت کی ہے ۔ بیان میں کہاگیا کہ قابض انتظامیہ حریت قائدین کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پر امن سیاسی سرگرمیوں سے جبری طورپر روک رہی ہے جس سے اس کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔