دُبئی:ڈرائیونگ سکھانے کے بہانے طالبات سے جنسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو عدالت سبق سکھانے کو تیار

بنگلہ دیشی انسٹرکٹر نے ڈرائیونگ کی تربیت کے پہلے روز ہی خواتین کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جون 12:15

دُبئی:ڈرائیونگ سکھانے کے بہانے طالبات سے جنسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کو ..
دُبئی( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22جُون 2018ء) عدالت میں گزشتہ روز ایک ایسا مقدمہ زیر سماعت آیا جس میں ایک ڈرائیونگ انسٹرکٹر پر دو طالبات کو ڈرائیونگ کے دوران اُن کے جسم کے مختلف حصّوں کو غیر مناسب طور پر چھُونے اور جنسی چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپریل 2018ء میں دو طالبات نے ڈرائیونگ سیکھنے کی غرض سے ایک ڈرائیونگ انسٹیٹیوٹ میں اپنی رجسٹریشن کروائی۔

ڈرائیونگ کی کلاس لینے کے بعد‘ دونوں خواتین بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ ڈرائیونگ انسٹرکٹر کے ساتھ باری باری گاڑی میں بیٹھیں۔ پہلی خاتون جس دوران ڈرائیونگ کر رہی تھی‘ اُس وقت انسٹرکٹر نے اُس کے جسم کے مخصوص حصّے کو چھوا۔ جبکہ اس کے بعد جب دُوسری خاتون سکھلائی کے لیے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی‘ تو وہ بھی ڈرائیور کی جنسی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ نہ رہ سکی۔

(جاری ہے)

اس واقعے سے مذکورہ خواتین بہت پریشان ہوئیں اور انہوں نے ایک دوسرے سے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسگی کے واقعات کا ذکر کیا ۔ جس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کی رپورٹ پولیس کو کی جائے۔ خواتین کی رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے بنگلہ دیشی انسٹرکٹر کو گرفتار کر لیا۔ استغاثہ کی جانب سے ملزم پر دو خواتین کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جبکہ ملزم نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ ظاہر کیا ہے۔ ملزم سے تفتیش کرنے والے ایک پولیس افسر نے استغاثہ کے سامنے تصدیق کی کہ ملزم کا کہنا تھا کہ اُس نے پہلی مُدعی خاتون کو یہ یاد کروانے کے لیے اُس کی ران پر ہاتھ رکھا تھا کہ وہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لے۔ جبکہ دُوسری خاتون کے حوالے سے ملزم کا بیان تھا کہ اُس نے خاتون کے جسم کو کو یہ باور کروانے کے لیے چھواتھا کہ وہ اپنی گاڑ کی رفتار دھیمی کر لے کیونکہ وہ اس وقت ایک رش بھری گلی سے گزر رہے تھے۔ ملزم کے مطابق اُس نے پہلی خاتون کی کہنی کو جبکہ دُوسری کے گھُٹنے کو چھوا تھا۔ اس مقدمے کا فیصلہ آئندہ جمعرات کو سُنایا جائے گا۔