عام انتخابات اور ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل ہی مسلم لیگ ن میں بغاوتیں

قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے شہباز شریف وطن واپس لوٹنے کی ہدایت کی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 12:32

عام انتخابات اور ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل ہی مسلم لیگ ن میں بغاوتیں
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 جون 2018ء) : عام انتخابات اور ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل ہی مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں کے ساتھ چھوڑنے اور اعلان بغاوت نے اہلیہ کے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم پارٹی کے قائد نواز شریف کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے جس پر انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو فوری طور پر وطن واپس جا کر معاملات سنبھالنے کی ہدایت کر دی۔

لندن میں موجود سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سےصحافی نے ن لیگی رہنما زعیم قادری سے متعلق سوال کیا تو صحافی کے سوال پر جواب دینے کی بجائے شہباز شریف نے سوال ہی گول کر دیا اور بعد ازاں اس معاملے پر جواب دینے سے بھی انکار کردیا۔

(جاری ہے)

شہباز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کے لیے پہلی دستیاب فلائٹ سے ہی واپس جارہا ہوں، سیاسی باتیں وطن جا کر کروں گا۔

زعیم قادری نے گذشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں اعلان بغاوت کرتے ہوئے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں حمزہ شہباز پر خوب تنقید کی اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ پارٹی کی بکھرتی ہوئی صورتحال نے لندن میں موجود پارٹی قائد نواز شریف کو بھی پریشان کر دیا ہے جس پر انہوں نے شہباز شریف کو فورہی طور پر وطن واپس جانے اور معاملات کو سنبھالنے کی ہدایت کی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یکے بعد دیگرے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے اعلان بغاوت نے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عام انتخابات 2018ء کے لیے مسلم لیگ ن کے پاس اُمیدواروں کی پہلے سے ہی کمی ہے ، اور ایسے میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا اعلان بغاوت اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان پارٹی کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

دوسری جانب حال ہی میں احتساب عدالت کے باہر اپنے قائد نواز شریف کی بے رخی کا شکار ہونے والے نہال ہاشمی نے زعیم قادری کو اعلیٰ ظرفی کا درس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ایک خاندان کی طرح ہے، رشتے سالوں میں بنتے ہیں، ایک سیٹ یا ٹکٹ کے لیے ان رشتوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہے کہ اس سے قبل پارٹی اختلافات کے باعث سابق وزیر داخلہ اور نواز شریف کے دیرینہ ساتھی چودھری نثار علی خان بھی آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔

اس کے علاوہ ن لیگی رہنما داؤد قریشی بھی باغی ہو گئے تھے جبکہ سابق لیگی ایم پی اے انیس قریشی نے بھی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے ٹکٹس کی تقسیم ایک نیا امتحان اور درد سر بن گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ میں ٹکٹس کی تقسیم پر کئی اختلافات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن میں ٹکٹس کی تقسیم کی وجہ سے کئی اہم پارٹی رہنماؤں کا ناراض ہونے اور پارٹی چھوڑنے کا امکان ہے۔

یہ خدشہ مزید بڑھ جانےسے مسلم لیگ ن پریشانی کا شکار ہے۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے لندن میں مشاورت کے بعد پارٹی ٹکٹ پانے والوں کی فہرستیں فائنل کر لی ہیں۔۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کئی اہم نشستوں کے حوالے سے ٹکٹیں تبدیل کرنے کا بھی کہا لیکن مریم نواز اور نوازشریف نے واضح انکار کر دیا۔ ن لیگی قیادت نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کابہانہ بناکر ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال پر ملنے والی رپورٹ کی روشنی میں ٹکٹوں کا اعلان وقتی طور پر مؤخر کر دیا ہے ۔

مسلم لیگ ن سے متعلق ایک یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ ن نے خطرے کو بھانپتے ہوئے ہی پارٹی کے اہم رہنماؤں کو منانے کے لیے اچھی خاصی گیم کھیل دی۔ ن لیگ نے ٹکٹوں کا لالچ دے کر اپنے تمام روٹھے رہنماؤں کو منا لیا۔ مسلم لیگ ن کی پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی نئی حکمت عملی کامیاب ہو گئی ، قیادت نے اختلافات ختم نہ ہونے کی صورت میں حلقے اوپن رکھنے کی تنبیہہ کی تھی، جس کے بعد راولپنڈی، فیصل آباد اور لودھراں میں لیگی دھڑے ایک ہوگئے، جہلم میں بھی مقامی قیادت کو پیغام بھجوا دیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل کے ذرائع کے مطابق ن لیگ کی پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی نئی حکمت عملی کامیاب ہوگئی۔ اور راولپنڈی فیصل آباد اور لودھراں میں لیگی دھڑے ایک ہوگئے۔ پارٹی کی قیادت نے راولپنڈی اور لودھراں کے دونوں دھڑوں کے ٹکٹ باہمی صلح سے مشروط کیے تھے۔ ن لیگ نے کچھ رہنماؤں پر اس گیم کے اثرات دیکھنے کے بعد اب کچھ دیگر اضلاع میں بھی یہی فارمولا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جہلم میں بھی مقامی قیادت کو پیغام بھجوا دیا گیا ہے۔