کاشتکار کپاس کی فصل پرکاٹن ملی بگ اور ڈسکی بگ کی تلفی کو یقینی بنائیں،زرعی ماہرین

جمعہ جون 13:16

فیصل آباد۔22 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) ماہرین زراعت نے کاشتکاروںکو مشورہ دیا ہے کہ وہ کپاس کی فصل پرکاٹن ملی بگ اور ڈسکی بگ کی تلفی کو یقینی بنائیں کیونکہ کپاس کے علاقوں میں بعض مقامات پر پودوں، جڑی بوٹیوں اور آرائشی پودوں پر ان کیڑوں کا حملہ نوٹ کیا گیا ہے۔انہوںنے بتایاکہ یہ کیڑے کپاس کے پھولوں اور ٹینڈوں سے رس چوس کرنہ صرف پیداوارمیں کمی کا سبب بنتے ہیں بلکہ روئی کو داغ دار کر کے کوالٹی کو شدید متاثر کرتے ہیں لہٰذا ان کے تدارک کے لیے ابھی سے حکمت عملی مرتب کرنے اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوںنے بتایاکہ ان کیڑوں کی میزبان فصلات یعنی بھنڈی توری، جوار ، باجرہ اور پٹ سن پر بھی ان کیڑوں کی تلفی کو یقینی بنایاجائے ۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں اور فصلات پر حملہ کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ کپاس کی فصل کو پاکستان کی معیشت میں ایک اہم مقام حاصل ہے کیونکہ روئی کی کوالٹی کو مزید بہتر کر کے ہر سال ملکی سطح پر اربوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ عمدہ قسم کی کپاس اور روئی پیدا کرنے کیلئے صاف چنائی ،ذخیرہ اور ترسیل میں احتیاط کے ساتھ ساتھ ان کیڑوں پر کنٹرول حاصل کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ ان کیڑوں کے بالغ اور بچے دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتے ہیں جس سے متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹیریا اور فنجائی کا حملہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ٹینڈا پوری طرح نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جننگ کے دوران ان کیڑوں کے کچلنے سے روئی پر داغ بن جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بیج پر شدید حملہ کی صورت میں تیل کے اجزاء کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح بیج کا اگائو بھی متاثر ہوتا ہے ۔