ووٹ مانگنے کے لیے آنے والے سیاسی رہنما کو شدید شرمندگی کا سامنا

"ہماری چار نسلیں خاموش رہ کر گزرگئیں، ہم خاموش نہیں رہ سکتے، اب ہم اپنا حق لیکر رہیں گے،نوجوانوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار سلیم کو کھری کھری سناکر واپس بھجوادیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 13:00

ووٹ مانگنے کے لیے آنے والے سیاسی رہنما کو شدید شرمندگی کا سامنا
کراچی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔22جون 2018ء) ووٹ مانگنے آئے پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار سردار سلیم مزاری کو شرمندگی کا سامناکرنا پڑگیا۔نوجوانوں نے سردار سلیم کو گھیر لیا اور کھری کھری سناکر واپس بھجوادیا۔نوجوانوں کا کہنا ہے کہ "ہماری چار نسلیں خاموش رہ کر گزرگئیں، ہم خاموش نہیں رہ سکتے، اب ہم اپنا حق لیکر رہیں گے۔تفصیلات کے مطانق ملک بھر میں عام انتخابات کا اعلان 25جولائی کو کیا گیا ہے،جیسے جسیے انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے تو عوامی نمائندوں نے بھی عوام میں جانا شروع کر دیا ہے۔

تام اب عوام میں بھی سیاسی شعور اجاگر ہو گیا ہے اور وہ حلقے میں دورہ کرنے والے رہنماؤں کو کھری کھری سناتے ہیں کہ پابچ سال تو ہمارا خیال نہیں آیا اب کیوں ووٹ مانگ رہے ہوں۔

(جاری ہے)

ایسا ہی ایک واقعہ سندھ میں پیش آیا ہے،قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی سندھ کے ضلع کندھ کوٹ ایٹ کشمور کے علاقے تنگوانی میں نوجوانوں نے ووٹ مانگنے کے لیے آنے والے علاقے کے با اثر ترین سردار سلیم جان مزاری کو واپس لوٹا دیا۔

ایک ٹی وی کے مطابق نوجوانوں نے طویل عرصے تک غائب رہنے اور عام انتخابات قریب آنے کے بعد ووٹ مانگنے کے لئے آنےو الے سردار سلیم جان مزاری کے سامنے احتجاج کر کے انہیں دس سال تک غائب رہنے ، ایوانوں میں علاقے کے لیے کچھ نہ بولنے اور علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کرنے پر خوب آڑے ہاتھوں لیا اور سلیم جان مزاری کو بولنے تک نہ دیا۔اور انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔

اس متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تنگونی کے نوجوان علاقے کے سردار اور سابق رکن اسمبلی کو روک کر ان کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔نوجوان سردار سلیم جان کو کہتے ہیں کہ ان کی خاموشی کو پچاس سال گزر گئے۔اور ان کی چار نسلیں خاموشی کی وجہ سے جہالت کی زندگی گزار رہیں گئیں۔تاہم ا ب وہ خاموش رہنےو الے نہیں ہیں۔وہ اپنا حق لے کر رہیں گے، اور اور اپنی یونیورسٹی لڑ جگھڑ کر بھی حاصل کریں گے۔سلیم جان مزاری کو احتجاج کم کر کے با ت سننے کا کہتے رہے تا ہم نوجوانوں میں اتنا شدید غصہ تھا کہ وہ کسی بھی صورت ان کی بات نہیں سننا چاہ رہے تھے۔