شریف برادران کی زعیم قادری سے ناراضی کی وجہ سامنے آ گئی

کسی نے زعیم قادری کی شریف برادران کے خلاف کی گئی باتیں ریکارڈ کر کے ان تک پہنچا دیں جو شہباز شریف کو ناگوار گزریں،یہی ریکارڈنگ اختلافات کا باعث بنیں، سینئیر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا تبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ جون 14:19

شریف برادران کی زعیم قادری سے ناراضی کی وجہ سامنے آ گئی
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 22 جون 2018ء) : گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر زعیم قادری نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی بجائے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔سینئر صحافی و تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ن لیگی رہنما زعیم قادری کی پارٹی بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زعیم قادری کی پارٹی بغاوت کی اندرونی کہانی کچھ اور ہے۔

جس دن ن لیگ میں ٹکٹوں کا فیصلہ ہونا تھا میں مبصر کی حیثیت سے وہاں موجود تھا۔ بطور صحافی ہم بہت سارے لوگوں نے مشاہدہ کیا کہ زعیم قادری نے جب ٹکٹ کے حوالے سے میٹنگ کی تھی تو اس میں بھی اپنا دفاع پیش کیا۔تب ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان کے بارے میں ن لیگ کی قیادت کے کچھ تحفظات ہیں جن کو وہ بیان کررہے ہیں۔ میں نے بعد میں پتا کروایا کہ کیا بات ہے؟ ۔

(جاری ہے)

کیونکہ زعیم قادری تو شریف خاندان کے ساتھ بہت وفادار ہیں اور ان کی فیملی بھی مسلم لیگی ہے۔ ان کے والد صاحب بھی بڑے پکے مسلم لیگی تھے۔ پھرآخر کیا بات ہوئی ہے۔تو اس تمام صورتحال کے بعد پتا یہ چلا کہ کچھ لوگوں نے زعیم قادری کی کچھ باتیں ریکارڈ کروا کر سابق چیف منسٹر شہباز شریف اور نواز شریف کو سنوائی ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس گفتگو میں وہ شریف برادران کے خلاف کچھ باتیں کررہے تھے۔

ا س وجہ سے زعیم قادری اور شریف براداران کے درمیان غلط فہمیاں بڑھی ۔ میرا خیال ہے کہ زعیم قادری عام طورپر کھلی گپ شپ کرتے ہیں اور ہلکی پھلکی گفتگو بھی کرتے ہیں اور اپنے دوستوں میں ذرا کھل بھی جاتے ہیں۔ شریف قیادت کو ان کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔اس لیے یہ طے تھا کہ اس دفعہ زعیم قادری کو قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں ملے گا، شاید اسی لئے زعیم قادری کو بھی یہ علم تھا کہ مجھے ٹکٹ نہیں دیاجائے گا۔

جب کہ دوسری طرف زعیم قادری کا کہنا ہے کہ ک ٹکٹ کے حوالے سے مجھ سے کمنٹمنٹ کرنے والے وہی دونوں صاحبان یعنیشہباز شریف اور حمزہ شہباز ہیں۔ زعیم قادری نے کہا کہ مجھے پارٹی کے لوٹوں سے کیا شکوہ ہونا ہے مجھے تو پارٹی قیادت نے دکھ دیا ہے۔ میں نے تمام قربانیاں اورجدوجہد صرف میاں نوازشریف کے لیے ہی کی لیکن انہوں نے مجھے آٹھ برس تک پوچھا ہی نہیں کہ تم زندہ بھی ہو یا مرگئے ہو۔

8 برس میں میں نے 3 ہزار بار کوشش کی کہ ان سے ملوں لیکن میری ملاقات نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ میں گذشتہ دس سالوں سےنواز شریف سے نہیں ملا۔ اور مجھے نواز شریف سے گلہ ہے کیونکہ میں نے جو قربانیاں دیں اور جدوجہد کی وہ سب میاں نواز شریف کے لیے کیا۔ اگر نواز شریف ملاقات سے انکار کر دیتے تو اور بات تھی،میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی مجھے اس کا دکھ نہیں ہے وہ بہت مصروف تھے اور اب میں بھی بہت مصروف ہوں۔