اے این پی کے ضلعی سینئر نائب صدر صفدر خان نے صوبائی و ضلعی قیادت سے نالاں ہو کر 23 سالہ سیاسی رفاقتیں توڑ دیں

جمعہ جون 15:19

ہری پور۔ 20 جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی سینئر نائب صدر صفدر خان نے پارٹی کی صوبائی و ضلعی قیادت سے نالاں ہو کر اپنی 23 سالہ سیاسی رفاقتیں توڑ دیں، صوبائی جنرل کونسل کی ممبر شپ ضلعی عہدے اور بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، 2018ء کے عام انتخابات میں علاقہ کے اجتماعی مفادات کے فیصلے کا ساتھ دینے کا اعلان کیا، آبائی گائوں کے عمائدین اور عوام کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا، پارٹی کے سابق دور حکومت میں وقتی شمولیت کرنے والے ایم پی ایز اور ان کے چہیتوں کو نوازا گیا، دیرینہ ورکر کا کام صرف نعرے بازی اور ڈنڈے کھانا تو نہیں، جب پارٹی اقتدار میں تھی تو ورکروں کے ساتھ کئے گئے وعدے کیوں ایفا نہیں کئے گئے، پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی دوبار ہری پور آئے مگر انہوں نے ضلعی تنظیم کو کوئی موقع نہیں دیا جو ضلعی صدر اور دیگر عہدیداروں کی کمزوری سمجھتا ہوں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اشرف خان آف پنیاں، کونسلر صابر خان، فرید خان، خواج محمد، احمد نواز، سلطان افسر خان، اکبر خان و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 23 سال قبل جب میں تحریک استقلال چھوڑ کر عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہوا تو میری بھر پور حوصلہ افزائی کی گئی مگر مجھے گلہ ہے اپنے مقامی و صوبائی قائدین پر کہ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے دوران ورکرز کو نظر انداز کیا اور حکومتی سہارا بننے والے دو ایم پی ایز کو نوازا جس کا فائدہ ان کے اپنے سپورٹروں کو ہوا، 2012ء میں صوبائی وزیر عاقل شاہ نے سرائے صالح کے مقام پر پنیاں میں70 لاکھ روپے مالیت کے سپورٹس سٹیڈیم کا اعلان کیا مگر یہ سٹیڈیم اعلانات تک ہی محدود رہا، اس دوران تین سی سی بیز کیلئے فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔

پنیاں میں باچا خان کمیونٹی سنٹر کا مطالبہ کیا اور ساڑھے سولہ لاکھ کا تخمینہ بھی دیا مگر سب ٹال مٹول کی نذر ہو گیا جو ضلعی صدر کی عدم دلچسپی کا باعث تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2016ء میں پنیاں کے مقام پر تین کمروں کا وسیع احاطہ بلا کسی لالچ عوامی نیشنل پارٹی کو ضلعی دفتر بنانے کیلئے وقف کرنے کا اعلان کیا مگر اس کو بھی ضلعی صدر نے کوئی اہمیت نہیں دی، ایسے میں ہم پارٹی میں رہ کر کسی امیدوار کی کیسے حمایت کر سکتے ہیں، پارٹی سے باہر رہ کر عوامی مفادات کے فیصلوں کا احترام کریں گے، کسی سیاسی جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت نہیں کریں گے۔