امریکی خاتون اول کا پناہ گزین بچوں کے کیمپ کا اچانگ دورہ،انتظامات کا جائزہ لیا

یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو جلد از جلد ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے میں کیا مدد کرسکتی ہوں،گفتگو

جمعہ جون 16:11

مکلین(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکا،میکسکو سرحد پر اپ برنگِنگ نیو ہوپ چلڈرن شیلٹر کے نام سے قائم پناہ گزین بچوں کے کیمپ کا اچانک دورہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے دورے میں انہوں نے بچوں کی صورتحال کا بذات خود جائزہ لیا اور وہاں موجود طبی ماہرین اور سماجی کارکنان سے تبادلہ خیال کیا۔

امریکی خاتون اول نے یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ان خصوصی احکامات کے بعد کیا، جس میں انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن سے ان کے بچے جدا کرنے کی پالیسی ختم کرتے ہوئے انہیں ماؤں کے ساتھ قید کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ ٹیکساس میں قائم یہ کیمپ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے جس میں ہونڈوراس اور سیلوا ڈور سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب بچوں کو رکھا گیا ہے جن کی عمریں 5 سال سے 17 سال کے درمیان ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سماجی کارکنان اور حکومتی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے میلانیا ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں بچوں سے ملنے کے لیے آج یہاں موجود ہوں، میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو جلد از جلد ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے میں کیا مدد کرسکتی ہوں۔اس حوالے سے میلانیا ٹرمپ کی ترجمان اسٹیفنی گریشم کا کہنا تھا کہ اچانک کیا جانے والا یہ دورہ 100 فیصد میلانیا کا آئیڈیا تھا، وہ بذات خود اس معاملے کا جائزہ لینا چاہتی تھیں۔

جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خصوصی احکامات دیتے ہوئے بچوں کو جدا کرنے کی پالیسی ختم کرتے ہوئے انہیں والدین کے ساتھ ہی قید کرنے کی ہدایت دی تھی۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلے سے جدا کیے گئے 23 سو سے زائد بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کے حوالے کوئی بات نہیں کی گئی۔اس ضمن میں میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کے دیئے گئے خصوصی احکامات یقینی طور پر اس معاملے کا کوئی حل نکالنے میں مدد کریں گے، تاہم اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جانا ابھی باقی ہے۔

متعلقہ عنوان :