فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے کے ملزمان کے اعترافی بیانات کا اہم حصّہ کالعدم قرار

اعترافی بیان کا مذکورہ حصّہ تشدد کے بل بوتے پر زبردستی لیا گیا،جانبداراسرائیلی عدالت کی انوکھی منطق

جمعہ جون 16:11

رام اللہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) اسرائیل کے شہر لٴْد کی مرکزی عدالت نے 2015ء میں دوما کے گاؤں میں فلسطینی دوابشہ خاندان کے قاتلوں کے بنیادی اعترافات کا ایک حصّہ کالعدم کر دیا ہے۔ عدالت کا موقف ہے کہ اعترافی بیان کا مذکورہ حصّہ تشدد کے بل بوتے پر زبردستی لیا گیا۔ عدالت نے بیان کے بقیہ حصّے کو قابل قبول قرار دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی مرکزی عدالت نے مرکزی ملزم عمیرام بن الوئیل اور جرم میں ملوث ایک کم عمر یہودی کے بنیادی اعترافات کو ختم کر دیا۔

تین برس قبل اپنے گھر میں شوہر اور بچوں سمیت شدت پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں زندہ جلائی جانے والی فلسطینی خاتون کے والد حسین دوابشہ نے بتایا کہ اسرائیلی عدالتوں نے دٴْہرا معیار اپنا رکھا ہے۔

(جاری ہے)

تشدد کے ذریعے فلسطینی قیدیوں سے حاصل ہونے والے بیانات پر اعتماد کیا جاتا ہے جب کہ وہ ہی عدالت شدت پسند یہودیوں کے اعترافی بیانات کو اس حیلے کے ساتھ مسترد کر دیتی ہے کہ یہ یہ بیان غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔

آٹھ سالہ احمد جلائے جانے والے فلسطینی دوابشہ خاندان کا واحد بچ جانے والا فرد اور اس بھیانک جرم کا اکلوتا گواہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے میرے ماں باپ لوٹا دو۔شدت پسند یہودی آباد کاروں کا ایک گروپ لٴْد میں عدالت کے آگے جمع ہوا اور اس نے دوابشہ خاندان کے سامنے اس بہیمانہ کارروائی پر فخر کا اظہار اور رقص بھی کیا۔تین برس قبل شدت پسند یہودی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں نابلس کے گاؤں دوما میں ایک فلسطینی گھرانے کے گھر کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے نتیجے میں 18 ماہ کا بچہ علی فوت ہو گیا جب کہ اس کے والدین اور بھائی احمد (5 سالہ) شدید زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں خاندان کا سربراہ سعد دوابشہ اور اس کی بیوی ریہام دوابشہ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔