تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت آزاد کشمیر حکومت کی تحویل میں آنیوالے محکمہ انکم ٹیکس میں بحیثیت کمشنر انکم ٹیکس تعیناتی کیلئے بولیاں لگنے کا انکشاف

جمعہ جون 16:16

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت آزاد کشمیر حکومت کی تحویل میں آنیوالے محکمہ انکم ٹیکس میں بحیثیت کمشنر انکم ٹیکس تعیناتی کیلئے بولیاں لگ گئیں ۔تیرہویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ایک سینئر بیوروکریٹ نے وزیراعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان کو حقائق سے لاعلم رکھتے ہوئے ایک من پسند ، کرپٹ اور بدعنوان آفیسر کی بحیثیت کمشنر انکم ٹیکس تعیناتی کیلئے سمری منظور کروالی جسے عدالت العالیہ کے حکم امتناعی کے باعث عملی شکل نہ دی جاسکی۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے محکمہ انکم ٹیکس کے ایف بی آر روالپنڈی نے ڈیپوٹیشن پر تعینات آفیسر کمشنر انکم ٹیکس تعینات ہونے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

اس سلسلہ میں انہیں بعض حکومتی زعماء اور بیوروکریٹس کی آشیر باد حاصل ہے ۔ ذرائع کے مطابق مبینہ کرپشن اور بدعنوانی کے سالار اعظم سردار ظفر محمود کی مکاری اور عیاری پر مبنی کارستانیوں کی طویل داستان منظرعام پر آئی ہے ‘آفیسر موصوف کمشنر انکم ٹیکس تعیناتی میں ناکامی کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بے بنیاد میڈیاپروپیگنڈہ کرنے کے درپے ہیں ‘ آزادجموں وکشمیر ایکٹ 74کی تیرہویں آئینی ترمیم میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے میرٹ اور شفافیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے دن رات ایک کرکے کشمیری عوام کو آئینی ترمیم کا نایاب تحفہ دیامگر کرپشن اور بدعنوانی کے سردار اور سالار ظفر محمود انتہائی مکاری سے ان تمام کوششوں کو ایک سینئر بیوروکریٹ کی مدد سے خاک میں ملانے کی سازش میں ملوث پائے گئے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق تیرہویں آئینی ترمیم سے قبل آزاد جموں وکشمیر کونسل میں سالار کرپشن کیخلاف 20لاکھ روپے کے عوض کمشنر انکم ٹیکس تعینات ہونے کی انکوائری زیر کار تھی کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے فوری بعد سردار ظفر محمود ایڈیشنل کمشنر نے خود کو کمشنر انکم ٹیکس تعینات کروانے کیلئے حکمت عملی کے تحت آزاد کشمیر کے ایک سینئر بیوروکریٹ کے تعاون سے خصوصی ڈیزائن کے ذریعہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے قریبی اور بااعتمادساتھیوںکیساتھ ملکر اپنی کرپشن کو دوام دینے کی ایک کوشش کی ۔

اس دوران کرپشن کے بے تاج بادشاہ ایڈیشنل کمشنر ظفر محمود نے خود کو محکمہ میں سینئر ترین آفیسر قرار دیکر نہ صرف وزیراعظم آزاد کشمیر سے دھوکہ کیا بلکہ اپنے سینئر بیوروکریٹس کو بھی اندھیرے میں رکھ کر وزیراعظم اور سینئر بیوروکریٹس کے درمیان خاموش جنگ شروع کروا دی ۔ وزیراعظم فاروق حیدر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمشنرانکم ٹیکس تعیناتی کی سمری منظور کروانے کے پس پردہ محرکات اور عوامل کیساتھ ساتھ سرگرم عناصر کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور سردار ظفر محمود کے ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے کمشنر انکم ٹیکس کے عہدہ پر موجودہ آفیسرجودیانتدار اور فرض شناس بھی ہیں ‘ کو تعینات ہی رہنے دیا جائے تاکہ ان کی محکمہ کیلئے جو ریکارڈ خدمات ہیں وہ متاثر نہ ہوں۔

سالار کرپشن سردار ظفر محمود ایڈیشنل کمشنر نے اپنی اس انکوائری کو دبانے کیلئے جن منفی پروپیگنڈوں کو استعمال کیا ان کی تفصیل بعد میں میڈیا میں لائی جائیگی۔ ادھر آزاد کشمیر حکومت کی تحویل میں آنے کے بعد محکمہ انکم ٹیکس میںموجود کرپٹ اور بدعنوان مافیا سردار ظفر محمود کی آزاد کشمیر تعیناتی میں ہی اپنی عافیت سمجھ رہا ہے جسے ناکام بنانے کی سنجیدہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔

تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت آزاد کشمیر حکومت کو محکمہ انکم ٹیکس کی تحویل ملنے کیوجہ سے آزاد کشمیر میں حکومتی سطح پر مالی معاملات میں آسودگی متوقع ہے جبکہ کچھ لینٹ افسران اور کشمیر کونسل میں تعینات رہنے والے سابق مراعات یافتہ بیوروکریٹس معاملے کو متنازعہ بنا کر تیرہویں آئینی ترمیم کو غیر موثر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسلام آباد کے ایک بڑے مال میں آزاد کشمیر کے 2بیوروکریٹس کی بیگمات کو لاکھوں روپے کی عید پر شاپنگ کروائی گئی ہے اس سلسلہ میں مذکورہ شاپنگ مال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بطور ثبوت موجود ہے ۔