ترقیاتی منصوبہ جات کے ٹینڈرز میںپیپرا رولز اور شفافیت اولین ترجیح ہے ‘ترقیاتی منصوبوں میں معیار، شفافیت اور میرٹ کی حکومتی پالیسی پر مکمل عمل کیا جاتا ہے ‘ ماضی میں جعل سازی وملی بھگت سے ٹھیکے لینے والے اپنی ناکامیوں پر محکمہ کے خلاف بے بنیاد بہتان تراشی کر رہے ہیں‘محکمہ شاہرات سرکل کوٹلی کے ترجمان کا جاری بیان

جمعہ جون 16:30

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) محکمہ شاہرات سرکل کوٹلی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبہ جات کے ٹینڈرز میںپیپرا رولز اور شفافیت اولین ترجیح ہے ،ترقیاتی منصوبوں میں معیار، شفافیت اور میرٹ کی حکومتی پالیسی پر مکمل عمل کیا جاتا ہے ، ماضی میں جعل سازی وملی بھگت سے ٹھیکے لینے والے اپنی ناکامیوں پر محکمہ کے خلاف بے بنیاد بہتان تراشی کر رہے ہیں ،ترجمان محکمہ شاہرات نے اپنے بیان میں کہا کہ چیف ایگزیکٹو میسرز امتیازحسین اینڈ کو اور آئیڈیل انجینئرنگ کنسٹرکٹرمسٹر امتیازحسین نے اپنے بیان میں محکمہ شاہرا ت سے جعلی بینک گارنٹیوں کے ثبوت طلب کئے ہیں۔

یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی سخت گرم دن کی دوپہر دھوپ میں کھڑاہوکراور یہ کہے کہ بتائو سورج کہاں ہے۔

(جاری ہے)

راقم نے اس معاملہ کی مکمل چھان بین کرتے ہوئے مکمل ثبو ت کے ساتھ دونوں کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور FIRکروانے کے لئے بذریعہ مکتوب نمبر304-05 مورخہ15 جنوری2018 چیف انجینئر شاہرات (سائوتھ) مظفرآباد کو تحریک کیا جاچکاہے۔ جس کے بعد موصوف عدالتی حکم امتناعی کے پیچھے چھپے ہوئے ہیںاور اندرون خانہ محکمہ سے معافی کے طلب گار ہیں۔

نیز موصوف کو محکمہ پر کیچڑ اچھالنا زیب نہیں دیتا۔ اگر کوئی ٹھیکیدارAt par ریٹس پر کام حاصل کرلے تو کیااس کو سودے بازی کا نتیجہ کہنا چاہئے ۔ موصوف کے سابقہ ادوار کے کام ہاء میںکتنے ایسے کام ہیں جو کہAt Parیا Aboveریٹس پر الاٹ شدہ ہیں۔کیا اس کو محکمہ کے ساتھ سودہ بازی سمجھ لینا چاہیئے۔ترجمان نے کہا کہ جہاں تک کمپنیوں کیDisqualifyہونے کی بات ہے جو کمپنی کام کرنے یا ٹیکنیکل بڈ بنانے کی اہل نہیں ہے بے شک اس کے ریٹس کم ہی کیوں نہ ہوں ایسی کمپنیوں کو کوالیفائی نہیں کیا جاسکتا۔

محکمہ ایک اور نشان کمپنی پالنے کا ہرگز خواہش مند نہیں ہے۔جو کمپنی سکھر((سندھ)) سے جعلی ورک آرڈر کی کاپی منسلک اور ثابت ہونے پر معافی کا طلب گار ہو ایسی کمپنی کو کوالیفائی کرتے ہوئے کام کیسے الاٹ کی جاسکتاہے۔ موصوف کی دانست میں اگر محکمہ نے کسی کمپنی کو ناجائز Disqualifyکیا ہے تو تحت ضابطہ Redressel Committeeکے پاس درخواست کیوں جمع نہیں کروائی گئی تاکہ بروقت دادرسی مل سکتی۔

نیز موصوف کو کسی دوسری کمپنیوں کا درد کچھ زیادہ محسوس ہورہاہے جبکہ اصل کمپنیاں کمیٹی کے فیصلہ سے مطمئن ہیں۔موصوف نے اپنی جعل سازی محکمہ تک ہی محدود نہیں رکھی بلکہ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک کے زیر نگرانی اکتوبر2017میں سکولز کے ٹینڈرز میں حصہ لیا اور Bid Securityکے طورپر کروڑوں روپے کی بینک گارنٹیاں جمع کروائیںجو بعد ازاں چیک کروانے پر جعلی ثابت ہوچکی ہیں اور محکمہ تعلیم آئیڈیل انجینئرنگ کنسٹرکٹرکمپنی کے خلاف الگ سے کارروائی کررہاہے۔

ترجمان نے کہا کہ محکمہ پر بے بنیاد الزام تراشی کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں اورحالیہ دنوں میں محکمہ کے خلاف منفی و گمراہ کن پراپیگنڈہ کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور اس میں ملوث مفاد پرست عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی ،ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اور وزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز کی میرٹ، شفافیت اور معیار پر سختی سے عمل کرنے کی واضح ہدایت جس کے مطابق ٹینڈرز پراسس سو فیصد شفاف اورپیپرا رولز کے تحت ہوئے ہیں اور جن کمپنیوں کے نام الاٹ ہیں ان میں زیادہ تر ریاستی اور کام کی اہل ہیں بلکہ بہت کم عرصہ میں کچھ لمبائی میں اسفالٹ کاکام بھی جاری ہوچکاہے جس میں تصریحات اور کوالٹی کومکمل چیک کیاجارہاہے۔

ترجمان نے کہا کہ تعمیر وترقی کے عمل کو محض منفی و گمراہ کن پراپیگنڈہ کی بناء پر کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :