نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ان سے کوئی تعلق ہے ،ْ خواجہ حارث

جے آئی ٹی سربراہ کا کام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا،کوئی نتیجہ اخذ کرنا جے آئی ٹی کا اختیار نہیں تھا طارق شفیع کے دوسرے جمع کرائے گئے بیان حلفی میں بھی نواز شریف کا کہیں ذکر نہیں ،ْ دلائل جاری

جمعہ جون 16:37

نواز شریف لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ان سے کوئی تعلق ہے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دور ان سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے مسلسل چوتھے روز حتمی دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ہی اٴْن کا ان سے کوئی تعلق ہے۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی ۔

گزشتہ روز دلائل دیتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی ایک تفتیشی ایجنسی تھی ،ْجو تفتیش کیلئے قانون وضع کرتی ہے کہ قابل قبول شہادت کونسی ہے اور کونسی نہیں ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سربراہ کا کام صرف تفتیش کرکے مواد اکٹھا کرنا تھا،کوئی نتیجہ اخذ کرنا جے آئی ٹی کا اختیار نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ جے آئی ٹی سربراہ کے اخذ کیے گئے نتائج اور رائے قابل قبول شہادت نہیں۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران خواجہ حارث نے حتمی دلائل کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا، جہاں گزشتہ روز ٹوٹا تھا اور کہا کہ استغاثہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت بھی ثابت کرنا تھی۔۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کے دوران کہا کہ ان کے موکل لندن فلیٹس کے بینیفیشل اونر ہیں اور نہ ہی ان کا ان سیکوئی تعلق ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء استغاثہ کے گواہ تھے اور ان کا بیان دو حصوں میں تقسیم ہونا ہے۔

خواجہ حارث نے دلائل کے دوران کہا کہ جس متفرق درخواست اور طارق شفیع کے بیان حلفی پر استغاثہ انحصار کر رہی ہے ،ْ اس میں نواز شریف کا کہیں ذکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طارق شفیع کے بیان حلفی کے مطابق 1973 میں وہ 19 سال کے تھے، جب میاں شریف انہیں دبئی لے کر گئے اور 1974 میں گلف اسٹیل مل بنائی گئی۔خواجہ حارث کے مطابق طارق شفیع کے دوسرے جمع کرائے گئے بیان حلفی میں بھی نواز شریف کا کہیں ذکر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو متفرق درخواستیں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائیں وہ استغاثہ ریکارڈ پر نہیں لائی۔خواجہ حارث نے کہا کہ استغاثہ کا انحصار دبئی اسٹیل مل کے معاہدے پر ہے، اس میں سب کردار ہیں مگر نواز شریف نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1978 کے اس معاہدے کا ایک صفحہ غائب ہے جس پر عدالت نے نیب کو تفریق شدہ صفحہ جمع کرانے کا حکم جاری کردیا۔

خواجہ حارث نے دلائل کے دوران کہا کہ طارق شفیع کے مطابق 1978 میں نواز شریف نے دبئی اسٹیل مل کے 751 شیئرز فروخت کیے جبکہ 1980کے معاہدے میں نواز شریف نیخود کو گلف اسٹیل مل سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ خواجہ حارث نے سوال اٹھایا کہ یہ دستاویزات استغاثہ کی ہیں، اس کے مطابق نواز شریف کا کیسے ان سے تعلق جڑتا ہی خواجہ حارث نے حتمی دلائل کے دوران مریم اور حسین نواز کے درمیان کومبر گروپ ٹرسٹ ڈیڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی تیسرا شخص نہیں اور اس ٹرسٹ ڈیڈ کا بھی نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں جڑتا۔

نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ کیپٹل ایف زیڈ ای سے ان کے موکل نے تنخواہ لی ،ْاس کا ایون فیلڈ سے کیا تعلق ہی خواجہ حارث نے کہا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کی تنخواہ 2008 کا معاملہ ہے، تنخواہ وصولی کی کوئی دستاویز نہیں بلکہ اسکرین شاٹ دیا گیا اور اگر تنخواہ وصول بھی کی تو اس سے ایون فیلڈ کا کیا تعلق بنتا ہے۔۔نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی جیآئی ٹی نیکوئسٹ سالیسٹر کو کیوں ہائر کیا خواجہ حارث نے کہا کہ آج میں نیاستغاثہ کی پیش کردہ 81 دستاویزات کا جائزہ لیا ہے،ان میں سے اگر کوئی ایون فیلڈ سے متعلقہ ہے تو وہ شیزی نقوی کا بیان حلفی ہے جن کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا حدیبیہ کے قرض اور ڈیل وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے اسٹیفن مورلے ایکسپرٹ رپورٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیفن مورلے نے ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق اپنی رائے دی لیکن ان کی رائے کا نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں، اگر وہ بطور گواہ کٹہرے میں آجائیں تو بہت بہتر ہوگا۔خواجہ حارث کے مطابق اسٹیفن مورلے کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان نیازی کی ہدایت پر حسین نواز اور مریم نواز سے متعلق ایکسپرٹ رائے تیار کی، اس رائے کا بھی نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوںنے کہاکہ اسٹیفن مورلے سے سوال جواب اور ان کی رائے میں کہیں بھی نواز شریف کا ذکر نہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ استغاثہ نے دو چارٹ ایک صفحے پر دیئے، اس پر بعد میں لڑیں گے کہ علیحدہ علیحدہ کیوں نہیں دیئے، لیکن اس میں بھی ایون فیلڈ کا ذکر نہیں بلکہ نیلسن اور نیسکول کا بھی ذکر نہیں۔دلائل کے دوران خواجہ حارث نے یو اے ای کی وزارت انصاف کا جواب بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔