پاکستان میں کرکٹ کو مقبولیت حاصل ، باکسنگ آج بھی غیر معروف ہے، عامر خان

میری خواہش ہے کہ پاکستان میں باکسنگ کا نیا ٹیلنٹ سامنے آئے جو عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرے،برطانوی باکسر

جمعہ جون 16:57

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کو بہت مقبولیت حاصل اور باکسنگ کا کھیل آج بھی غیر معروف ہے۔عامر خان نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان میں باکسنگ کا نیا ٹیلنٹ سامنے آئے جو عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرے، پہلی سپر باکسنگ لیگ 28 ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہوگی، اس موقع پر سپر باکسنگ لیگ میں شریک ٹیموں کے مالکان، شاہد خان آفریدی،، راحت فتح علی خان، باکسرز اور دیگر متعلقہ افراد کی کثیر تعداد میں موجود تھی۔

اس موقع پر ٹیموں کی کٹ کی رونمائی بھی کی گئی جبکہ راحت فتح علی خان نے لیگ کے حوالے سے گیت بھی پیش کیا۔ شاہد آفریدی کی ٹیم پختون واریئرز کے نام سے اس لیگ کا حصہ ہوگی جس کے وہ اونر ہونگے جبکہ وسیم اکرم ملتان نوابز کے ساتھ ہیں۔

(جاری ہے)

لاہور ریمز کے اونر علی شیخ، کراچی کوبراز کے فہد مصطفی اور سلمان اقبال، سیالکوٹ شیرز کے اونر جہانگیر ریاض،، فیصل آباد فیلکنز کے اونر راحت فتح علی خان اور سلمان ہونگے۔

عامر خان نے کہا کہ دنیا بھر میں کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کے لیے جم اور فٹنس سینٹر قائم ہیں تاہم بد قسمتی سے پاکستان میں یہ سہولیات آج بھی بہت کم ہیں، میری تمام تر توجہ باکسنگ کی جانب ہے کہ میں پاکستان سے باصلاحیت باکسر سامنے لاں یہ لیگ بھی اسی کوشش کا حصہ ہے۔ میں پاکستان کو بہت کچھ دینا چاہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں یہاں بہت ٹیلنٹ ہے۔

محمد وسیم اور حسین شاہ امیچر سے پروفیشنل باکسنگ میں گئے اور نام بنایا۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن آئبا کے ساتھ چلتی ہے ہم پاکستان میں پروفیشنل باکسنگ لا رہے ہیں اس لیے ہمارا پاکستان باکسنگ فیڈریشن سے کوئی جھگڑا نہیں ہے، ورلڈ باکسنگ کونسل ہی دنیا بھر میں باکسنگ کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔عامر خان نے کہاکہ پہلی باکسنگ لیگ 28 ستمبر سے اسلام آباد میں ہوگی جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین باکسرز بھی شرکت کریں گی، 8 ٹیموں کی96 باکسرز شرکت کریں گے لیگ کی ہر ٹیم میں10مرد اور دو خواتین باکسرز ہونگی، مجھے امید ہے کہ باکسنگ لیگ پاکستان باکسنگ کے لیے بہترین ثابت ہوگی، بھارت میں اس کا کامیاب انعقاد کیا جا چکا ہے، میں محمد وسیم سے بھی کہوں گا کہ وہ بھی اس لیگ کا حصہ بنیں۔