عمران خان نمبرگیم سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں،شاہ محمود قریشی

خدا کوحاضرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں،جوالیکشن ہی نہیں لڑسکتا،اس سےکیوں جھگڑوں؟ احتجاجی کارکنوں کا احساس ہے،انکی ملاقاتیں کون کراتا ہے،وہ اون کیوں نہیں کرتے؟سکندربوسن کوکون لانا چاہ رہا؟عائشہ جٹ بی بی کو صوبائی ٹکٹ کس نےدلوایا؟ پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ جون 16:47

عمران خان نمبرگیم سے ہی وزیراعظم بن سکتے ہیں،شاہ محمود قریشی
ملتان(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 جون 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں، جوکھیل میں ہی نہیں، الیکشن ہی نہیں لڑسکتا، اس سے کیوں جھگڑوں؟مجھے احتجاجی کارکنوں کا احساس ہے، کارکنوں کی سفارش ملاقاتیں کون کراتا ہے، وہ اون کیوں نہیں کرتے؟ سکندربوسن کوکون لانا چاہ رہا ہے؟ عائشہ جٹ بی بی کو صوبائی ٹکٹ کس نےدلوایا؟ انہوں نے آج یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ ٹھکرائی، قومی اسمبلی کی نشست ٹھکرائی، نظریے کا سودا کرنے کیلئے یہ سب نہیں ٹھکرایا۔

انہوں نے ایک سوال آپکی اورجہانگیرترین کی سردجنگ سے پارٹی کونقصان ہورہاہے؟ کے جواب میں کہا کہ خدا کو حاضر ناظرجان کرکہتا ہوں جہانگیرترین سےکوئی جھگڑا نہیں۔

(جاری ہے)

جوکھیل میں ہی نہیں، الیکشن ہی نہیں لڑسکتا، الیکشن گیم سےباہرہے اس سے کیوں جھگڑوں؟ مجھے ان کارکنوں کا احساس ہے جو احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج کارکن کررہےہیں میں تو نہیں کرارہا۔

ایسا کون کررہا ہے؟ کون انکی سفارش کررہا ہے؟ کون ملاقاتیں کراتا ہے،وہ کیوں اون نہیں کرتے؟ ان میں اتنی اخلاقی جرات کیوں نہیں کہ مانیں کہ ہم سکندر بوسن کو لارہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسی رشتہ دار کو اپنے نظریے پر فوقیت نہیں دوں گا۔حق مانگنا ہر کسی کا حق ہے فیصلہ کرنا پارٹی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی فیصلہ کرےگی۔ عمران خان فیصلہ کریں گے خوا وہ میرےعزیزکے حق میں ہویا خلاف ہو۔

درخواست دینا، دلائل دینا ہر کسی کا حق ہے، فیصلہ تسلیم کرنا پارٹی کا ڈسپلن ہے۔ کہنے کا حوصلہ ہونا چاہیے کہ سکندربوسن کوکون لانا چاہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عائشہ جٹ بی بی کو صوبائی ٹکٹ کس نےدلوایا، کیا میں نے دلوایا؟ عائشہ جٹ کو ضمنی الیکشن کس نے لڑوایا؟ کیا میں نے لڑوایا؟ شاہ محمود نے مزید کہا کہ میں تو عائشہ کے ضمنی الیکشن میں بھی موجود نہیں تھا۔

حقائق کو حقائق بنا کر پیش کریں۔ نذیر جٹ نے اگر بات کی ہے تو اپنے بل بوتے پر کی ہے۔ نذیرجٹ کی اپنی ایک سوچ،سیاسی حیثیت اور ایک نام ہے۔ میری اس میں کوئی شرارت نہیں ہے۔ نہ بدنیت ہوں نہ شرارتوں کا عادی ہوں،سازشی مزاج کا بندہ نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہےاللہ دلوں کے رازجانتا ہے،اللہ حقائق پہچانتا ہے۔ میں آپ سے فریب کرسکتا ہوں،کیا اللہ سے کرسکتا ہوں؟ کیا میں اللہ سے جعلسازی کرسکتا ہوں؟ اس سے قبل شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹکٹوں کے معاملے پر ہم نے دیانتداری سے بیٹھ کر تین اصولوں کو آسان بنایا ہے۔

ٹکٹوں کا معاملہ آسان بنایا ہے ہم نے ٹکٹوں کے معاملے میں دیانتداری‘ وفاداری کو دیکھا۔ ہم نے دیانتداری سے میرٹ کو فوقیت دی ساڑھے چار ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں دوسری کسی جماعتوں کو اتنی درخواستیں نہیں ملیں۔ عوام جانتے ہیں کہ تحری کانصاف ایک مقبول جماعت ہے۔ ہر حلقے میں آج درخواستوں پر درخواستیں آرہی ہیں۔ بعض ارکان کی ٹکٹوں کے معاملے میں دل آزاری ہوئی ایک ایک نمائندے کو اسلام آباد بلا کر ان کی باتیں سنیں گئیں۔

عمران خان کا فیصلہ ہے کہ وہ دیانتداری سے پارٹی کے فیصلے کریں گے ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں آج ایک حلقے میں کئی کئی امیدوار ہیں بنی گالہ میں کارکن اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ نمبر گیم سے ہی عمران خان وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ انسان عقل کل نہیں نیک نیتی سے فیصلہ کرسکتا ہے میں دیانتداری سے بات کررہا ہوں میں جو بات کررہا ہوں عمران خان جانتے ہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماء جہانگیرترین نے اپنے ردعمل میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف میں بطورعام کارکن کام کررہا ہوں۔ میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ ہرحلقے سے جیت کرعمران خان کووزیراعظم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر دکھ ہوا لیکن فورا فیصلہ تسلیم کیا۔ پی ٹی آئی میں نہ کوئی عہدہ مل سکتا ہےنہ میں کوشش کررہا ہوں۔

پی ٹی آئی میں ویسے کھڑا ہوں جیسے پہلے کھڑا تھا اور محنت کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کیخلاف بات کرنا پسند نہیں کرتا،،شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس نہیں دیکھی، پریس کانفرنس دیکھ کرجواب دوں گا۔ جہانگیرترین نے کہا کہ دھرنے کی سیاست ہم نے پاکستان میں شروع کی۔ہم دھرنے کی سیاست کوبرا نہیں سمجھتے ہیں۔ جہانگیرترین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کاکام ہے کہ اثاثوں کی تصدیق بھی کرے۔ نوازشریف سرکاری جہازاستعمال کرتے تھے۔ عمران خان جس جہازمیں عمرےپرگئے وہ سرکاری نہیں تھا۔