شہباز شریف کا آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے ضروری اقدامات کو اپنی جماعت کے انتخابی منشور کا حصہ بنانے کا فیصلہ

جمعہ جون 17:21

شہباز شریف کا آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے ضروری اقدامات کو اپنی جماعت ..
فیصل آباد۔22 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے مطالبے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے آبی ذخائر کی تعمیر سمیت ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات کو باضابطہ طور پر اپنی جماعت کے انتخابی منشور کا حصہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر شبیر حسین چاولہ نے محمد شہباز شریف کی طرف سے اپنی پارٹی کی منشور کمیٹی کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کے معاملے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شمار آبی کمی کے دبائو کے شکار ملکوں میں ہوتا ہے جبکہ آئندہ چند سالوں میں پانی کی قلت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ماہرین کے مطابق آئندہ جنگوں کی بڑی وجہ بھی پانی ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے جبکہ اس کی 60 فیصد سے زائد آباد ی کا براہ راست انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کیلئے پانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کو اپنی آبی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کم از کم 120 دن کے پانی کا ذخیرہ رکھنا ضروری ہے جبکہ پاکستان میں ہم صرف 30 دن کی ضروریات کیلئے پانی کا ذخیرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسلمہ حقیقت کے باوجود گزشتہ حکومتوں نے نئے آبی ذخائر کی تعمیر پر توجہ نہیں دی جبکہ بعض سیاستدانوں نے بھی اس اہم ترین قومی مسئلہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ہم ابھی تک اپنے آبی وسائل سے پوری طرح استفادہ نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اس مسئلہ کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنانے کا بروقت فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اس مسئلہ پر فوری توجہ دیتے ہوئے نئے آبی ذخائر کی تعمیر بارے واضح اور دو ٹوک پالیسی اپنانا ہوگی۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ وہ آنے والے سالوں میں پاکستان کو درپیش آبی مسائل کو کس طرح حل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلہ کو سیاسی منشور کا حصہ بنانے سے ووٹروں کو آبی ذخائر کی حمایت یا مخالفت کرنے والوں کا بھی معلوم ہو سکے گا اور وہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں بھی یقینا اس حوالے سے اپنے لئے اس جماعت کا انتخاب کر سکیں گے جو پاکستان کے آبی مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس سلسلہ میں عملی اقدامات اٹھانے کا بھی عزم رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ہمیں دستیاب آبی وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دینا ہو گی۔