اقوام متحدہ کی حالیہ جاری رپورٹ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے میں سر فہرست لا کھڑا کیا ہے ،

ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ فورم فار کشمیر عالمی ادارہ کی رپورٹ سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے مطالبے کو نہایت تقویت حاصل ہوئی ہے ، ۔کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز

جمعہ جون 17:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اس ہفتے ایک نئے دور میں داخل ہوا جب اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ماضی میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بعد ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی۔ 14جون 2018کو کشمیر پر پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کی ایک جامع رپورٹ جاری ہوئی، جس نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے میں سر فہرست لا کھڑا کیا۔

اقوام متحدہ نے کشمیر میں ایک بین الاقوامی انسانی اور سیاسی مداخلت کی راہ ہموار کر دی ہے، سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس طویل مدتی مسئلے میں بین الاقوامی دلچسپی بحال کردی ہے۔

(جاری ہے)

یوتھ فورم فار کشمیر کی طرف سے جمعہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی نے کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس میں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منظور ہونے والی قراردادوں کے بعد ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے جس سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تقویت ملی ہے۔

الطاف حسین وانی جو اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے 38ویں اجلاس کے دوران کشمیروفد کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہاکہ کشمیر اب حقیقی معنوں میں بین الاقوامی ایجنڈے میں سب سے اوپرنظر آرہا ہے۔زید رعد الحسین اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ہیں ، جو جولائی 2016 میں برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر زیر بحث لائے۔

14جون اور پھر 18جون کو دوبارہ ہائی کمشنر نے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان اور بین الاقوامی برادری کو حیران کردیا جب انہوں نے ایک انکوائری کمیشن بنانے کی سفارش کی جو کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تحقیقات کرے۔کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار امجد یوسف خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ سے دو چیزیں حاصل ہوئیں، ایک تو کشمیر عالمی ایجنڈے میں سر فہرست آ گیا اور دوسرا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے مطالبے کو نہایت تقویت حاصل ہوئی۔

اس ہفتے کے دوران اہم ترین بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انسانی حقوق کونسل میں بھارت پر شدید تنقید کی اور اس سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل در آمد یقینی بنائے۔احمد قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر 1947 میں شروع ہوا تھا اور یہ بات بھارت کی دلیل کا واضح رد ہے کہ 1989میں کچھ کشمیریوں نے تحریک آزادی کی ابتدا کی تھی۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ افسر نے سات دہائیوں سے کشمیریوں کے مصائب کا حوالہ دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر سات دہائیوں پرانا مسئلہ ہے۔سردار امجد کا کہنا تھا کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سفارتکاری کو مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر ابھارتے رہنے کے چیلنج کو قبول کرنا ہوگاتاکہ عالمی سطح پر کشمیر پر پیش رفت جاری رہ سکے۔اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں اور پاکستانیوں کو بھی اس بات کاا دراک ہونا چاہیئے کہ عالمی برادری کشمیر پر اپنی خاموشی بھرپور انداز میں توڑ چکی ہے اور اس کامیابی کا سہرا اقوام متحدہ کے سر ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیئے۔

احمد قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ اورانکوائری کمیشن بنانے کی سفارشات مستقبل میں کسی موقع پر کشمیر میں ممکنہ عالمی مداخلت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔اس امکان کو ممکن بنانے کیلئے پاکستان،، بھارت اور کشمیریوں کی طرف سے سفارتی مہارت اور تفہیم کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ انٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ یوتھ فورم فار کشمیر، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او(NGO) ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔