پٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور ٹیکسوں کے استعمال کے نوٹس کا خیر مقدم کرتے ہیں‘خرم نواز گنڈاپور

افراد مضبوط اور ادارے کمزور ہیں،بے رحم احتساب کے بغیر انتخاب کا کوئی فائدہ نہیں‘سیکرٹری جنرل عوامی تحریک

جمعہ جون 17:35

پٹرولیم مصنوعات کی خریداری اور ٹیکسوں کے استعمال کے نوٹس کا خیر مقدم ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ ن لیگ کے مقروض صدر شہباز شریف بتائیں وہ محدود آمدنی میں ایک سے زائد فائیو سٹار گھروں کی دیکھ بھال کیسے کرتے ہیں اور بیرون ملک علاج اور پاکستان کے اندر سیاست اور اللے تللے کس پیسے سے کرتے ہیں کوئی مقروض شخص پورے ملک کی سیاست تو کیا ایک یونین کونسل میں سیاست کرنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

وہ گزشتہ روز مرکزی سیکرٹریٹ میں عہدیداروں اور کارکنوں کے وفود سے بات چیت کررہے تھے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ خواب بن گیا، افراد مضبوط اور ادارے کمزور ہو گئے۔جب تک بے رحم احتساب نہیں ہو گا کسی انتخاب کا ملک و قوم کو کچھ فائدہ نہ ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1985ء سے پہلے کون کتنا امیر تھا اور آج کتنا امیر ہے اس کا جائزہ لے لیا جائے تو ہر امیر کی امارت کا بھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوٹ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب سے شریف برادران کوچہ اقتدار میں داخل ہوئے ہیں تمام اخلاقیات کی حدیں ٹوٹ گئیں، جرائم پیشہ عناصر سیاستدانوں کا روپ دھار کر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے اور ان جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے شرفاء کا پاکستان میں زندہ رہنا دوبھر ہو گیا۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر حاصل ہونے والے ٹیکس کا حساب مانگا ہے اور پٹرولیم منصوعات کی خریداری کے نظام پر شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں، یہ بہت بڑا نوٹس ہے ،یہ اربوں نہیں کھربوں کے غبن کا میگا سکینڈل ہے ،ہو سکتا ہے اس سکینڈل کے تانے بانے انٹرنیشنل تیل مافیا سے بھی جڑے ہوئے ہوں،تاہم یہ اہم نوٹس ہے، کم از کم اس کا فیصلہ ضرور ہونا چاہیے اور 25 جولائی سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ قوم اپنے لیڈروں کے اصل چہرے کو انتہائی قریب سے دیکھ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کا چیئرمین کہہ رہا ہے کہ پیسہ باہر بھیجنا کوئی جرم نہیں، اس چیئرمین سے پوچھا جائے کہ وہ قوم کے خون پسینے کے ٹیکسوں کی کمائی سے بطور چیئرمین ایف بی آر لاکھوں، کروڑوں کی ماہانہ مراعات کیوں لے رہے ہیں اگر پیسہ باہر بھیجنا جرم نہیں تو پھر نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر کے محکمے بند کر دئیے جائیں اور اس چیئرمین کو بھی باہر بھیج دینا چاہیے۔