گرتی ہوئی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی انتہائی ضروری ہے ، تاریخ بڑھائی جائے،میاں زاہد حسین

جمعہ جون 17:40

گرتی ہوئی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کا ایک بہتر دور گزارنے کے بعدسیاسی عدم استحکام کے باعث ایک بار پھر مشکل ترین صورتحال سے دو چار ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام مزید دو ماہ رہنے کاا مکان ہے جس میں قومی معیشت مزید تنزل کا شکار ہوسکتی ہے۔

موجودہ صورتحال کے باعث انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ مستحکم سے منفی کردی ہے، جس سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد کم ہوگااور قرضوں کا حصول دشوار ہوگا۔ پاکستان کے قومی خزانے میں زرمبادلہ کے ذخائر لگ بھگ 10ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو دو ماہ کے درآمدی بلز کی ادائیگی کے لئے بھی کم ہیں۔

(جاری ہے)

IMFکے مطابق ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کم از کم تین ماہ کے امپورٹ بلز کے برابر ہونے چاہئے۔

ڈالر کی قدر میں پچھلے 6ماہ کے دوران 15فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ڈالر 6روپے مہنگا ہوا ہے جس سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں 15ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا ہے۔ موڈیز کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران مہنگا ئی کی شرح 4فیصد سے بڑھ کر 7فیصد ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ دو دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 1324پوائنٹس کی کمی سے سرمایہ کاروں اور عوام کو284ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے۔

میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ کاروبار اور سرمایہ کاری کی صورتحال منجمد اور رو بزوال ہے، جس کے باعث آئندہ آنے والے دنوں میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔سابقہ حکومت کی طرف سے برآمدی سیکٹر کو فراہم کردہ ترغیبات کے نتیجے میں برآمدات میں 2ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، تاہم اس میں مزید اضافہ ازبس ضروری ہے، ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال میں بیلنس آف پیمِنٹ کا خسارہ 11ہزار ملین ڈالر سے بڑھ کر تقریباً16ہزار ملین ڈالر ہوگیا ہے۔میاں زاہد حسین نے کہاکہ سابقہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب کرکے اس مشکل صورتحال سے بچا جاسکتا ہے۔ حکومتی اداروں کے اندازے کے مطابق اگر ایمنسٹی اسکیم کامیاب ہوجاتی ہے تو ملک میں3تا5ارب ڈالر کی مالیت کے اثاثے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کے امکانات ہیں۔

ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی کے لئے نگراں حکومت سنجیدہ کوششیں کررہی ہے اور پاکستان ٹیکس بار کی طرف سے دی گئی 17میں سے 16تجاویز منظور کرلی گئیں ہیں، جس سے امید کی جارہی ہے کہ متوقع نتائج حاصل ہوسکیں گے تاہم ایمنسٹی اسکیم کی آخری تاریخ 30جون میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اگر ایمنسٹی اسکیم سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو کشکول توڑنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیںگے اور پاکستان ایک بار پھر اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لئے مجبوراًIMFکی کڑی شرائط پر مزید قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

معیشت کی گرتی صورتحال سے نمٹنا آنے والی منتخب حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا، جو آسان نہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ آنے والی حکومت کو معیشت کی اس ابتر صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات میںخاطرخواہ اضافہ کرنے، بیرونی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے اور ملکی صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوںگے۔