وفاقی پولیس نے 53پولنگ اسٹیشنز پر خونی الیکشن کا خدشہ ظاہر کردیا

پولیس رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سمیت وزارت داخلہ کے ہوش اڑ گئے۔قانون نافض کرنے والے اداروں نے جامع رپورٹ تیار کرنے کیلئے پھر سے کام شروع کر دیا چوہدری برادری ،کھوکھر برادری ،ملک برادری اور نمبر دار برادری کی رنجش سے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں،رپورٹ

جمعہ جون 19:34

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) وفاقی پولیس نے عام انتخابا ت میں وفاقی دارلحکومت کے پوش سیکٹرز سمیت دیگر علاقوں کے 53پولنگ اسٹیشنز پر خونی الیکشن کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔۔پولیس رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ سمیت وزارت داخلہ کے ہوش اڑ گئے۔قانون نافض کرنے والے اداروں نے جامع رپورٹ تیار کرنے کیلئے پھر سے کام شروع کر دیا ۔اسلام آباد پولیس نے ساڑھے سات سو کے قریب پولنگ اسٹیشنز میں سے تریپن پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دے دیا۔

چیف کمشنر کو آئی جی اسلام آباد کی جانب سے بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق چوہدری برادری ،کھوکھر برادری ،ملک برادری اور نمبر دار برادری کی رنجش سے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز آئی جی اسلام آبادجان محمد نے چیف کمشنر کواسلام آباد کے حساس پولنگ اسٹیشنز کی رپورٹ بھجوادی،رپورٹ میں اسلام آباد پولیس نے ساڑھے سات سو کے قریب پولنگ اسٹیشنز میں سے تریپن پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دے دیارپورٹ میں چوہدری برادری ،کھوکھر برادری ،ملک برادری اور نمبر دار برادری کی رنجش کے باعث حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے ،رپورٹ میں حساس قرار دیئے گئے پولنگ اسٹیشنز پر حالات کشیدہ ہونے پر انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات ہیں،بعض پولنگ اسٹیشن میں کم تعلیم یافتہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہو سکتا ہے آئی جی اسلام آباد کا رپورٹ میں خدشہ رپورٹ کے مطابق تھانہ کورال کے علاقے میں 18 پولنگ اسٹیشنزحساس ہیںتھانہ نیلور کی حدود میں تین، تھانہ آئی نائن کی حدود میں چار،،تھانہ شہزاد ٹاؤن میں دو، تھانہ سہالہ کے علاقے میںدو،،تھانہ بنی گالہ کی حدود میں دو ،بھارہ کہو میں تین اور 11 پولنگ اسٹیشن تھانہ آبپارہ جبکہ دو تھانہ کو ہسار کی حدود میں حساس ہیں۔

(جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذیشان کمبوہ /اپنے رپورٹر سے