ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت

نواز شریف لندن فلیٹس کے بینفیشل اونر ہیں نہ انکا ان سے کوئی تعلق ہے،استغاثہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت بھی ثابت کرنا تھی، ،خواجہ حارث کے دلائل جاری سماعت پیر تک ملتوی

جمعہ جون 21:14

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل جمعہ کے روز بھی جاری رکھے انھوں نے اپنے دلائل میں بتایا کہ نواز شریف لندن فلیٹس کے بینفیشل اونر ہیں نہ ہی انکا ا ن سے کوئی تعلق ہے،استغاثہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت بھی ثابت کرنا تھی، بیان حلفی کے مطابق 1974 میں نواز شریف نے گلف سٹیل مل بنائی،طارق شفیع نے کہا 1973میں وہ انیس سال کے تھے میاں شریف انہیں بھی دبئی لے گئے استغاثہ کی طرف سے پیش کی گئی اکیاسی دستاویزات میں سے صرف شیزی نقوی کا بیان حلفی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس سے متعلقہ ہے لیکن اس میں بھی شیزی نقوی نے کہا کہ نوازشریف کا حدیبیہ کے قرض اور اسٹیلمنٹ کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

استغاثہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت بھی ثابت کرنا تھی، نیب نے ابھی تک کیس اسٹیبلش ہی نہیں کیا۔

(جاری ہے)

لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں خواجہ حارث نے اپنے حتمی دلائل میں کہا کہ جو دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں ان میں کہیں بھی نواز شریف کا نام نہیں ،کسی بھی آف شور کمپنی سے نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں ،خواجہ حارث نے کہاکہ کچھ دستاویزات نیب کی جانب سے پیش کی گئی ایون فیلڈ سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نیب نے جس متفرق درخواست، ایم ایل اے اور طارق شفیع کے بیان حلفی پر انحصار کیا اس میں بھی نوازشریف کا نام نہیں ہے۔

طارق شفیع کے مطابق 1978 میں میاں شریف نے مل کے 75فیصد شیئرز فروخت کیے۔ابھی تک نیب کی جانب سے کیس اسٹیبلش نہیں کیا گیا اس لیے صفائی میں کچھ پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ،جو متفرق درخواستیں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی وہ استغاثہ کی طرف سے ریکارڈ پر نہیں لائی گئیں۔ٹرسٹ ڈیڈ کا معاملہ مریم نواز اور حسین نواز کے درمیان ہے اس میں کوئی تیسرا شخص نہیں،،اس لیے ٹرسٹ ڈیڈ کا بھی نواز شریف سے کوئی تعلق نہیں جڑتا کیس کی سماعت25 جون بروز پیر تک ملتوی کر دی گئی ۔۔۔ بشارت راجہ