سرگودھا:محکمہ لائیو سٹاک کے افسران و ملازمین نجی کمپنیوں کے نمائندے بن گئے

قانون کی عملداری میں رکاوٹ بننا شروع کردیا ، کوئی بھی قانون لاگو نہیں ہوسکا

جمعہ جون 21:35

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) محکمہ لائیو سٹاک کے افسران و ملازمین نجی کمپنیوں کے نمائندے بند کر خود ہی قانون پر عملداری میں رکاوٹ بن کر رہ گئے ہیں، اور ایک مرتبہ پھر بھینس‘ گائے‘ بکریوں سمیت دیگر مویشیوں کو ٹیکے لگا کر زیادہ دودھ حاصل کرنے کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے‘ حرص زر میں مبتلاء مویشی پالنے والے حضرات زیادہ رقم کے حصول کے لئے اپنے مویشی کو دودھ دوہنے سے کچھ دیر پہلے ٹیکہ لگا دیتے ہیں جس سے جانور دودھ زیادہ دیتا ہے‘ ایسے اقدام کے دوران کئی مویشیوں کی ہلاکتوں کے باوجود یہ دھندہ روز بروز شدت اختیار کرنے کے باعث ایسا دودھ استعمال کرنے والے خواتین و افراد بالخصوص بچوں کی صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کو ٹیکے لگا کر زیادہ دودھ حاصل کرنے پردنیا کے کئی ممالک میں پابندی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے مگر پاکستان میں اس ضمن میں کسی قسم کی سنجیدگی سامنے نہیں آئی، قبل ازیں ممنوعہ انجکشنز لگانے کی روک تھام کے سلسلہ میں بلند و بانگ دعوے کرتے ہوئے ابتدائی ایام میں کاروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں مگر مستقل حکمت عملی اختیار نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ سلسلہ بدستور جاری ہے یہی نہیں محکمہ لائیو سٹاک کا فیلڈ عملہ مبینہ چمک کے عوض میڈیسن کمپنیوں کی نمائندگی بھی بڑھ چڑھ کر کرنے میں مصروف ہے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔

متعلقہ عنوان :