گڈانی کے سمندر میں کراچی کے سترہ افرادڈوب گئے

چار خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں،ایک بچی کو بیہوشی کی حالت میں اوردس افراد کو زندہ بچالیا گیا ، دو بچوں کی تلاش کا کام جاری

جمعہ جون 21:35

گڈانی کے سمندر میں کراچی کے سترہ افرادڈوب گئے
حب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) گڈانی کے سمندر میں کراچی کے سترہ افرادڈوب گئے ، چار خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں ۔ایک بچی کو بیہوشی کی حالت میں اوردس افراد کو زندہ بچالیا گیا ، دو بچوں کی تلاش کا کام جاری ہے، مقامی ماہیگیروں ، ایدھی کے رضاکاروں اور پاکستان نیوی کے ہیلی کاپٹر اور غوتہ خوروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تفصیلات کے مطابق کراچی سے پچاس کلومیٹر دور بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی بازار کے سبزہ محلہ کے ساحل پر جمعے کے روز دن کے بارہ بجے سمندر کے کنارے پکنک منانے والے کراچی کے علاقے لیاری کے آگرہ تاج محلہ کے کچھی برادری کے ایک ہی خاندان کے 17 افراد سمندر میں ڈوب گئے جنہیں مقامی ماہیگیروں نے بلدیہ گڈانی کے چیف غوتہ خورمیر توکل بلوچ اور ان کے مزید غوتہ خوروں اور ایدھی ٹرسٹ بلوچستان کے کارکنوں کی مدد سے سمندر سے زندہ نکالنے کی کو ششیں کیں۔

(جاری ہے)

اس دوران مذکورہ فیملی کی چار خواتین ,پچیس سالہ عمیرہ زوجہ زاہد ، شازیہ زوجہ شاہد ، 21سالہ صدف بنت الیاس ، 12 سالہ مہک بنت شاہد کی لاشیں نکال لی گئیں جنہیں گڈانی کے علاقے شیخ آباد میں واقع محکمہ صحت بلوچستان کے رورل ہیلتھ سینٹر پہنچا دیا گیا جہاں میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد یونس بلوچ ، ڈاکٹر ارشاد رونجھو ، لیڈی ڈاکٹر شازیہ بلوچ ، ڈاکٹر فوزیہ بلوچ اور محکمہ صحت کے اہلکاروں شیر جان ، یار محمد اور غلام سرور نے ایدھی کے رضاکاروں ، بلدیہ گڈانی کے غوتہ خوروںنے امدادی سرگرمیوںمیں حصہ لیا ۔

بعد ازاں جاں بحق ہونے والی خواتین کے عزیز و اقارب کی بہت بڑی تعداد شیخ آباد سول ڈسپینسری پہنچی جہاں رقعت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کو لپٹ لپٹ کر چیخیں مار مار کر رونے لگا ۔ اس دوران سول اسپتال میں گڈانی پولیس کے ایس ایچ او رحمت اللہ چھٹہ پولیس کی بھاری نفری سمیت موجود تھے جبکہ ایدھی ٹرسٹ بلوچستان کے انچارج ڈاکٹر عبدالحکیم لاسی ایدھی ایمبولینسوں اور ایدھی ٹرسٹ کے رضاکاروںکی بڑی تعداد کے ہمراہ سول ڈسپینسری میں موجود رہے ۔ بعد ازاں ڈوبنے والی خواتین کے ورثہ جاں بحق ہونے والی خواتین کی لاشیں اپنے ہمراہ کراچی لے گئے ۔