بھارتی انکار پر ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کے تحت چھٹے ریجنل ٹیکنیکل گروپ کے اجلاسکا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

مذکورہ اعلامیے کی نئی دہلی سے توثیق اور منظوری کے بغیر مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کئے جاسکتے ، بھارتی نمائندہ قدرتی آفات سرحدوں کی پابند نہیں، اس لئے اقدامات بھی مشترکہ طور پر اٹھانے کی ضرورت ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے

جمعہ جون 21:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) این ڈی ایم اے کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کے تحت چھٹے ریجنل ٹیکنیکل گروپ کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھارت کے انکار پر جاری نہ ہو سکا ،،بھارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مذکورہ اعلامیے کی نئی دہلی سے توثیق اور منظوری کے بغیر مشترکہ اعلامیے پر دستخط نہیں کئے جاسکتے جس کے باعث اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کیا جا سکا، تفصیلا ت کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس دوروزہ اجلاس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے رکن ممالک کی جانب سے اب تک کی جانے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اگرچہ بہت زیادہ اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی بھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

اجلاس کی اختتامی تقریب میں چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے کہا کہ تمام رکن ممالک نے اجلاس میں شرکت کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنا سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی میزبانی میں یہ چوتھا اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں پاکستان کے قائدانہ کردار کی تعریف کی گئی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ چونکہ قدرتی آفات سرحدوں کی پابند نہیں اس لئے اقدامات بھی مشترکہ طور پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔چیئرمین کا کہنا تھا کہ یونیسکو ارلی وارننگ سسٹم پر کام کر رہا ہے، اس پر کافی پیشرفت بھی ہو چکی ہے، ہم نے زلزلوں کے علاوہ سونامی اور سموگ کو بھی اس سسٹم میں شامل کرنے کی درخواست کی ہے۔ کانفرنس میں چین،، جاپان، ترکی،، بھارت،، افغانستان،، ایران،، قزاقستان، اقوام متحدہ اور دیگر رکن ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ بھارت کی جانب سے اعلامیہ کی نئی دہلی سے منظوری کی شرط کے باعث اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کیا جا سکا۔