یونیورسٹیوں میں طلباء یونین بحال ہونی چاہئے، یونیورسٹیوں کی خود مختاری سے ایچ ای سی کو فروغ حاصل ہو گا، مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے معیاری تحقیق کی ضرورت ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں جگہ بنانے کیلئے معیاری تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہے،چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری

جمعہ جون 22:12

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے کہا ہے کہ یونیورسٹیوں میں طلباء یونین بحال ہونی چاہئے، یونیورسٹیوں کی خود مختاری سے ایچ ای سی کو فروغ حاصل ہو گا، مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے معیاری تحقیق کی ضرورت ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں جگہ بنانے کیلئے معیاری تعلیم کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے۔

جمعہ کو ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو میں اپنی ترجیحات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو بہتر بنانے کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے بہترین بین الاقوامی اداروں میں جگہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر طارق بنوری نے یونیورسٹیوں کی خود مختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ایچ ای سی مضبوط ہو گی اور اعلیٰ تعلیم کو فروغ حاصل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں معیاری تحقیق کے فروغ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تحقیق عالمی یونیورسٹیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے بھی ضروری ہے اور ایچ ای سی معیاری تحقیق کو ترجیح دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں فیکلٹی کی مہارتوں اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کیلئے تدریسی طریقہ کار پر خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر طارق بنوری نے مزید کہا کہ اکیڈمک ایشوز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس سلسلہ کا آغاز کمیشن بلوچستان سے کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء یونین کو بحال ہونا چاہئے کیونکہ یہ طلباء میں سیاسی نظام سے متعلق شعور فراہم کرتی ہے اور یہ ان کو سیاست میں حصہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلباء یونین میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے، وہ بھی اپنی نوجوانی میں طلباء یونین کا حصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نجی تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں بھی معیاری تعلیم فراہم کر سکتے ہیں کیونکہ تمام طالب علم باصلاحیت ہوتے ہیں، اس کیلئے ہمیں اساتذہ اور طلباء کی کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو نجی تعلیمی اداروں کے برابر لانے کیلئے ہمیں انگریزی، حساب اور کمپیوٹر کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہداف کے حصول کیلئے تعلیم کے شعبہ میں فرق کا جائزہ لے کر ترجیحی بنیادوں پر اسے ختم کیا جائے گا تاکہ اعلیٰ معیار کے عالمی اداروں کی صف میں اپنے اداروں کو شامل کیا جا سکے۔