سپریم کورٹ نے ہیروئن سمگلنگ میں سزایا فتہ پی آئی اے عملہ کے رکن کی سزا کے خلاف دائر اپیل خارج کردی

جمعہ جون 22:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سپریم کورٹ نے ہیروئن سمگلنگ میں سزایا فتہ پی آئی اے عملہ کے رکن کی جانب سے ا پنی سزا کے خلاف دائر اپیل خارج کردی ہے اور ملزم کی سزاکوبرقراررکھتے ہوئے کہاہے کہ ملزم کوئی عام آدمی نہیں پی آئی اے عملے کارکن تھا، ایسے لوگ ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ، نہ جانے پی آئی اے کے کتنے لوگ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں ،جمعہ کوجسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، یادرہے کہ فرخ عباس ہیروئن سمگلنگ کرتے ہوئے ائیر پورٹ پرکڑے گئے تھے،۔

سماعت کے موقع پر ملزم فرح عباس کے وکیل راجہ محمد فاروق نے پیش ہوکر عدالت کے روبرو موقف اپنا یا کہ ان کے موکل اس کیس میں ملوث نہیں اس لئے ان کی سزا کوکالعدم قراردے کر بری کیا جائے ، جس پرجسٹس سردار طارق مسعود کا کہناتھا کہ یہ کوئی عام نہیں بلکہ پی آئی اے عملے کارکن تھا ، فرخ عباس نامی کریو سے 6 کلو ہیروئن پکڑی گئی ہے ایسے ہی لوگ ملک کی بدنامی کاباعث بنتے ہیں،،سماعت کے دوران اے این ایف کے سپشل پراسیکوٹر نے عدالت کوآگاہ کیا کہ ملزم پی آئی اے کے جہاز کے ذریعے ہیروئن سمگل کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ پکڑا گیا ہے ملزم نے نہ صر ف منشیات سمگل کرنے کی کوشش کی بلکہ ا پنے اس عمل کے ذریعے قومی ادارے کے وقار کوبھی دائوپرلگایا تھا اس لئے استدعا ہے کہ ملزم کی جانب سے اپنی سزا کیخلاف دائر اپیل خارج کی جائے، جبکہ جسٹس گلزاراحمد کاکہناتھا کہ پتہ نہیں جہاز کے عملے کے نہ جانے کتنے لوگ اس مکرو دھندے میں ملوث ہیں۔

(جاری ہے)

منشیات کے دھندے میں ملوث ایک بندہ پکڑا جاتا ہے جبکہ 99 بھاگ جاتے ہیں پی آئی اے عملہ کے لوگ بیرون ملک منشیات کے دھندے میں پکڑے جاتے ہیں اورجب یہی لوگ پکڑے جاتے ہیں تو ملک کی بدنامی ہوتی ہے بعد ازاں عدالت نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے کیس نمٹادیا۔