ملتان کے ایک قومی اور پانچ صوبائی حلقوں پر ٹکٹوں کافیصلہ ابھی باقی ہے، شاہ محمودقریشی

جمعہ جون 22:20

ملتان کے ایک قومی اور پانچ صوبائی حلقوں پر ٹکٹوں کافیصلہ ابھی باقی ..
ملتان۔22 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ملتان کے ایک قومی اور پانچ صوبائی حلقوں پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں کارکنوں کوتحفظات ہیں لیکن یہ تحفظات صرف پی ٹی آئی میں نہیں دیگر پارٹیوں میں بھی موجودہیںجس کی واضح مثال زعیم قادری کی پارٹی میں بغاوت ہے۔

سندھ میں پیپلزپارٹی کوبھی ٹکٹوں کی تقسیم میں مسائل درپیش ہیں۔انہوں نے پارٹی پالیسی کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی نے وفاداری ،ذاتی کردار اور امیدوار کا ذاتی اثر ورسوخ دیکھ کر ٹکٹیں جاری کیں۔انہوں نے کہاکہ اب تک ساڑھے چارہزار سے زائد لوگوں نے ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔

(جاری ہے)

پشاور کے ایک حلقے سے 73لوگ ٹکٹ کے لئے خواہش مند ہیں۔۔عمران خان نے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ارشد ڈار کو ناراض ساتھیوں کو منانے کا ٹاسک دیا ہے۔

تحریک ا نصاف کے رہنماء نے کہاکہ سکندر بوسن کومقامی قیادت قبول نہیں کررہی اور نہ ہی انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے۔2013ء میں سکندر بوسن پی ٹی آئی میں شامل ہوئے لیکن پھرخیرآباد کہہ دیا۔انہیں نہیں معلوم کہ سکندربوسن کوکون پارٹی میں لانا چاہتا ہے۔جولوگ انہیں شامل کرنا چاہتے ہیں انہیں سامنے بھی آناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ ریجنل سیکرٹری عون عباس نے پارٹی ٹکٹ مانگا اورنہ ملنے پر پارٹی فیصلوں پر تنقید شروع کردی ۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لئے ہر قربانی دینے کوتیارہیں۔انہوںنے کہاکہ پارٹی کی کوشش ہے کہ ایسی خوا تین کوسامنے لائیں جوقوانین سازی میں کردار اداکرسکیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرا جہانگیر ترین سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ وہ میرے ذاتی دوست ہیں۔