ْ نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں،آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا، میرے اس فیصلہ میں کوئی لچک نہیں ہے، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی فکر کریں، پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے، چوہدری نثار علی خان

جمعہ جون 22:27

ْ نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں،آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میں کسی سے ناراض یا نالاں نہیں، میں نے نواز شریف کے مفاد کیلئے اختلاف کیا ہے، کوئی اسے بغاوت سمجھے میں اسے بغاوت نہیں سمجھتا، مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، نواز شریف کے ساتھ مل کر پارٹی کی ایک ایک اینٹ رکھی، میرے اختلافات مسلم لیگ (ن) یا مریم نواز شریف کے ساتھ نہیں، نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں، آزاد حیثیت میں الیکشن کیوں لڑ رہا ہوں، بیگم کلثوم نواز کی صحت یابی کے بعد کھل کر قوم اور اپنے حلقہ کے عوام کے سامنے حقائق رکھوں گا، میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی رابطہ ہے نہ مجھے کوئی لالچ ہے، میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں، نہ میں کسی بس کی تلاش یا انتظار میں ہوں، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا میرے اس فیصلہ میں کوئی لچک نہیں ہے۔

(جاری ہے)

جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے حوالہ سے گذشتہ کچھ دنوں سے مختلف خبریں گشت کرتی رہیں ، ایسے ایسے فقرے اخبارات اور ٹی وی چینلز پر میرے منہ میں ڈال کر چلائے گئے جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ 10 دن پہلے ایک مکمل طور پر جعلی خبر چلائی گئی جس میں ایسا کوئی حوالہ نہیں تھا کہ میں نے یہ بات کہاں کہی کہ پی ٹی آئی میں 10 غلطیاں ہیں اور مسلم لیگ (ن) میں 100 غلطیاں ۔

انہوں نے کہا کہ بعض ٹی وی چینلز اور اخبارات نے تو اس کی تردید شائع کی مگر بعض اخبارات میں انہی جعلی بیانات کو بنیاد بنا کر آرٹیکلز بھی لکھے گئے۔ انہوں نے کہا کہ چکری میں الیکشن مہم کے آغاز کی تقریب کو بنیاد بنا کر طرح طرح کی باتیں کی گئیں حالانکہ وہ گفتگو ریکارڈ پر ہے، اس کو نکال کر دیکھا جا سکتا ہے کہ میں نے کہاں ایسی بات کی ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ میں نواز شریف کے ساتھ اختلافات کی وجوہات بیان کروں گا، اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی مکمل صحت یابی تک میں اس حوالہ سے پریس کانفرنس نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حساب کتاب ہوا تو میرا ان کی طرف نکلے گا جو ایک سیاسی بیان ہے، 90 فیصد میڈیا نے درست رپورٹنگ کی، بہت ساری جعلی رپورٹنگ نظر انداز کی جا سکتی ہے مگر اس وقت حالات نارمل نہیں ہیں، میں الیکشن میں ہوں اور دو قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے الیکشن لڑ رہا ہوں، میں اپنا مؤقف اپنے حلقہ کے عوام اور قوم کے سامنے ضرور رکھوں گا کہ میں آزاد حیثیت میں الیکشن کیوں لڑ رہا ہوں، میں صرف سیاسی اختلافات کی بات کر رہا ہوں، ذاتی اختلافات کی نہیں، ایسے الفاظ جو میرے حوالہ سے سامنے آئے یہ میرا طرز سیاست ہی نہیں ہے، میں تلخ سے تلخ بات نظر انداز کرتا ہوں، ذرائع ابلاغ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری سیاست اور کردار کے حوالہ سے جو خبر بھی پہنچے اس کی پہلے تصدیق کر لی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بریکنگ نیوز کی دوڑ لگی ہوئی ہے، یہ خبر بھی آئی کہ میں نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی ہے، اس بات کا نام و نشان تک نہیں ہے، نہ میرا کسی سیاسی جماعت سے رابطہ ہے اور نہ کسی سے مجھے لالچ ہے اور نہ میں کسی کی طرف دیکھ رہا ہوں، میرے اپنے حلقہ کے عوام سے رشتہ 1985ء سے ہے اور الله تعالیٰ کا مجھ پر بے پناہ کرم ہے کہ میں واحد سیاستدان ہوں جس نے مسلسل 8 مرتبہ قومی اسمبلی کا الیکشن جیتا، الله تعالیٰ کا کرم، عوام کا ساتھ اور دعائیں رہیں تو میں 9ویں مرتبہ بھی الیکشن جیتوں گا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں گناہگار انسان ہوں، مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں، نواز شریف سے 34 سالہ تعلق رہا ہے، 33 سال تک دل نے جو کہا اور جو صحیح سمجھا وہ انہیں مشورے دیتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک وفاداری یہ نہیں ہے کہ لیڈر کی ہاں میں ہاں ملائی جائے اور یہ ایمانداری بھی نہیں ہے، اصل وفاداری یہی ہے کہ جو بات آپ کی سمجھ کے مطابق صحیح ہے وہ مشورہ دیا جائے، اس ساری صورتحال کی وضاحت پریس کانفرنس میں کروں گا مگر اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک کلثوم نواز کی صحت بہتر نہیں ہو جاتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کی تضحیک نہیں کرنی، اپنا مؤقف سامنے رکھنا ہے، میں مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف کی بیٹی کی بات نہیں کر رہا، نواز شریف کی بات کر رہا ہوں، میرا دل مطمئن ہے کہ جب میں نے یہ سمجھا کہ اختلافات حد سے بڑھ گئے ہیں تو میں نے وزارت سے خود کو الگ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی آوارہ بس کا مسافر نہیں، نہ دائیں بائیں کوئی بس دیکھی ہے، شاہد خاقان عباسی کو جب وزیراعظم نامزد کیا گیا تو وہ میرے پاس بیٹھا رہا اور اس نے کہا کہ میں آپ کے بغیر حلف نہیں اٹھائوں گا، میاں شہباز شریف بھی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میں آپ اور پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوں، اس کے بعد میں نے قومی اسمبلی میں قانون سازی میں بھرپور حصہ لیا، پہلے کی نسبت اسمبلی زیادہ جانا شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں نے وزارت سے استعفیٰ دیا مگر اس کے باوجود آخری بجٹ میں بھی پارٹی کو ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ناراض یا نالاں نہیں، میں نے ہمیشہ نواز شریف کے مفاد کیلئے ان سے اختلاف کیا، کوئی اسے بغاوت سمجھے مگر میں اسے بغاوت نہیں سمجھتا، مسلم لیگ (ن) کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا، نواز شریف کے ساتھ مل کر پارٹی کی ایک ایک اینٹ رکھی، اگر بغاوت کرنی ہوتی تو نواز شریف نے جب مجیب الرحمن کو محب وطن کہا اس وقت کرتا، ممبئی حملوں کے حوالہ سے بھی جب بات ہوئی تو میں نے سوچ سمجھ کر پاکستان کے مفاد میں بات کی اور کہا کہ ممبئی حملوں کے حوالہ سے عدالتوں میں مقدمہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے سیاسی اختلاف کیا ہے جو نواز شریف کے فائدے میں تھا، میں غلط ہو سکتا ہوں مگر کیا سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں آزاد کیوں الیکشن لڑ رہا ہوں اس کی وضاحت جلسہ میں نہیں پریس کانفرنس میں کروں گا، میں دائیں بائیں نہیں دیکھ رہا نہ مجھے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی نے میرے دونوں حلقوں میں ایک اچھی شہرت کی حامل کمپنی سے سروے کرائے ہیں، ایک حلقہ میں 98 فیصد اور دوسرے حلقہ میں 99 فیصد لوگوں نے کہا ہے کہ ہم صرف چوہدری نثار کو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری وزارت یا دیگر عہدے اس طرح باعزت نہیں جتنا مسلسل 8 مرتبہ عوام کا نمائندہ منتخب ہونا ہے، یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے، میں نے زندگی بھر ٹکٹ کیلئے درخواست نہیں دی تو اب کیوں کسی سے درخواست کروں گا، انٹرویو نئے لوگوں کے ہوتے ہیں، جو 8 مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور وزیر رہے ہوں ان کے انٹرویو کی ضرورت نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے شہباز شریف کی اس بات کا بھی نوٹس نہیں لیا کہ چوہدری نثار ٹکٹ مانگے یا نہ مانگے اس کو پارٹی ٹکٹ دے گی۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ملک کی فکر کریں، پاکستان کو بند گلی میں دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے اس کی کسی کو فکر نہیں ہے، ہم ملک کی تباہی کے عوامل سے بے خبر ہیں، بڑی ذمہ داری سیاسی قائدین کی ہے جن میں سرفہرست میاں نواز شریف ہیں کیونکہ وہ ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں، وہ ان حالات میں اپنا کردار ادا کریں، فوج،، عدلیہ اور میڈیا کو بھی اس حوالہ سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، سٹرٹیجکلی طور پر پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے، ملک کا تحفظ سب سے اولین ہے اور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں جب آرمی چیف افغانستان گئے اور مجھے اطلاع ملی تو میں نے فوراً یہ کہا کہ مجھے خوف آ رہا ہے، دوسرے دن ملا فضل الله مارا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے الیکشن اس لئے لڑ رہا ہوں کیونکہ میرے حلقے کا ایک حصہ ایک طرف اور دوسرا حصہ دوسری طرف منتقل ہو گیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کبھی یہ نہیں کہا کہ ڈان لیکس والا واقعہ نہیں ہوا، میں خود اس کی تحقیقات کرائی ہیں، یہ ضرور کہا ہے کہ نیشنل سیکورٹی لیک نہیں ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ بات اندر ہوئی ہی نہیں ہے اور جس طرح اس کی رپورٹنگ کی گئی ہے وہ درست نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی یا کسی اور سیاسی جماعت سے کوئی بات چیت نہیں چل رہی، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا اس میں کوئی لچک نہیں ہے۔