چیف کمشنر اسلام آباد کی زیر صدارت اجلاس، الیکشن 2018کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا

جمعہ جون 22:27

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) چیف کمشنر اسلام آباد جودت ایازنے الیکشن 2018کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام متعلقہ داروں کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم عمارتوں کی سکیورٹی کے لئے باہم مربوط تعاون کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد نے یہ ہدایات سکیورٹی انتظامات اور امن و امان کی سکیورٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں انسپکٹر جنرل آف اسلام آباد پولیس جان محمد،ڈائیریکٹر انتظامیہ عاصم ایوب ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل شعیب علی،ایس ایس پی(آپریشنز) نجیب الرحمان بگوی،اے آئی جی سپیشل برانچ لیاقت حیات نیازی اور ڈی آئی جی سکیورٹی وقار احمد چوہان اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد میں عام انتخابات کے حوالے سے عمومی امن و امان کی صورتحال اور الیکشن کمیشن کی مارتوں،پولنگ عملہ اورپولنگ سٹیشنوں سمیت پرنٹنگ پریس کی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

(جاری ہے)

چیف کمشنر اسلام آباد جودت ایاز نے اجلاس کے شرکاء کو ہدایت کی تمام متعلقہ اداروں کے مابین مربوط اور موئثر رابطوں کو یقینی بنایا جائیں اور خفیہ معلومات کے بروقت تبادلے کو یقینی بنائیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرجنرل شعیب علی ن اجلاس کو بتایا کہ تمام متعلقہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے عبوری سکیورٹی پلان کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پولنگ سٹیشنوں پر پینے کے پانی،،،بجلی کی دستیابی، خصوصی افراد کی آمدورفت کے لئے ریمپس،بیت الخلاء ک انتظام سمیت تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور اس حوالے سے سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پولنگ سٹیشنوں پر کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب بھی مکمل کی جا چکی ہے۔اجلاس کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر دفتر میںایک کنٹرول روم قائم کیا جائے گا اورایک مین کنٹرول روم سیف سٹی سنٹر میںبھیقائم کیا جائے گااور پولنگ سٹیشنزکنٹرول رومز سے منسلک ہوں گے۔ایس ایس پی اسلام آباد پولیس نجیب الرحمان بگوی نے اجلاس کو پولنگ سٹیشنوں اور دیگر عمارتوں میں اور شہر بھر میں پولیس فورس کی تعیناتی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر صاحبان اور ایس ایچ او صاحبان بھی انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے ورکرز اورکارکنان کے سات بھی کارنر میٹنگز کریں گے۔