محکمہ صحت میں اصلاحات لانے کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں ،سیکرٹری صحت بلوچستان

یہ حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تمام تربنیادی طبی سہولیا ت اٴْن کی د ہلیزتک بہم پہنچائے، حکومت بلوچستان اس مد میں تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے عوام کو بنیادی طبی سہولیات پہنچارہی ہے،صالح محمد ناصر کا بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے زچہ بچہ کی تقریب سے خطاب قومی غذائی سروے 2011 کے مطابق 40 فیصد بچے انتہائی غذائی قلت کا شکار ہیں۔بلوچستان کی 48.9 فیصدماؤں میں خون کی کمی پائی گئی ہے جبکہ57 فیصد بچوں میں خون کی کمی موجود ہے، بلوچستان بھی 16.1 فیصدفیصد بچے انتہائی لاغر پن کا شکار ہیں،، 63 فیصد مائیں پیدائش کے فورا بعد اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ، 27 فیصد مائیں جو کہ چھ ماہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں، 54 فیصد مائیں دو سال تک بچوں کی عمر کے حساب سے ان کو دودھ پلاتی ہیں اس شرح کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، مقررین کا تقریب سے خطاب

جمعہ جون 22:37

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) سیکرٹری صحت صالح محمد ناصر نے کہا ہے کہ محکمہ صحت میں اصلاحات لانے کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں انھوں نے کہا کہ بہتر صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور یہ حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تمام تربنیادی طبی سہولیا ت اٴْن کی د ہلیزتک بہم پہنچائے، حکومت بلوچستان اس مد میں تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے عوام کو بنیادی طبی سہولیات پہنچارہی ہے اور نیوٹریشن پروگرام اس حوالے سے سب سے اہم ہے۔

یہ بات انہوں نے نوزائیدہ وشیرخوار بچوں کی خوراک سے متعلق پانچ سالہ 2018-2022کی جامع حکمت عملی، جس کا اجرا بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے زچہ بچہ محکمہ صحت حکومت بلوچستان و اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے تعاون سے یقینی بنایا گیا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں بلوچستان نیوٹرشن پروگرام برائے ماں و بچے کے صوبائی سربراہ ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے نیوٹریشن اسپیشلسٹ ڈاکٹر عامر اکرم، تمام ڈولپمنٹ پارٹنرز کے اعلیٰ حکام صوبہ میں کام کرنے والے ورٹیکل بلوچستان نیوٹریشن پروگرامز کے حکام، سول سوسائٹی،، میڈیا کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر سیکریٹری صحت نے ڈیولپمنٹ پارٹنرز کی بلوچستان میں اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ غذائی قلت ایک سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے جس سے دنیا کے بیشتر ممالک کسی نہ کسی صورت نبرد آزماہیں۔ جب کہ ہمارے ملک بالخصوص ہمارے صوبے میں یہ مسئلہ انتہائی سنگین کیفیت اختیار کرچکاہے اس موقع پر یہ اسٹریٹجی کا جاری کرنا پروگرام کی جانب سے انتہائی مثبت پیش رفت کا مظہر ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور مانیٹرنگ کے نظام کومزید مستحکم کیا جائے۔

اس موقع پر بلوچستان نیوٹریشن پرو گرام کے سربراہ ڈاکٹر علی ناصر بگٹی نے کہا کہ بلوچستان نیوٹریشن سیل نے مختصر وقت میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد کے اس اسٹریٹجی کا اجراء تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس کے علاوہ بلوچستان صوبائی اسمبلی سے چائلڈ نیوٹریشن ایکٹ بھی پاس کر وایا گیا ہے اور اس طرح کے اقدامات کو مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا انہوںنے کہا کہ ڈیویلپمنٹ پارٹنر کے تیکنی تعاون کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا انہوںنے بتایا کہ اس اسٹریٹجی پر عمل درآمد کو یقنی بنانے کے لئے ہر سطح پر اقدامات اٹھا کر صوبے میں ماں اور بچے کی جان کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے ۔

علاوہ ازیں یونیسف کے ڈاکٹر عابد اکرم ، ڈاکٹر روبینہ میر و دیگر مقررین نے کہا کہ قومی غذائی سروے 2011 کے مطابق 40 فیصد بچے انتہائی غذائی قلت کا شکار ہیں۔۔بلوچستان کی 48.9 فیصدماؤں میں خون کی کمی پائی گئی ہے جبکہ57 فیصد بچوں میں خون کی کمی موجود ہے، بلوچستان بھی 16.1 فیصدفیصد بچے انتہائی لاغر پن کا شکار ہیں۔ بلوچستان بھر میں غذائی قلت کی وجہ سے ہمارے کل بچوں میں سے 52 فیصد فصد بچے بونے پن (پست قد ) یعنی قد کے چھوٹے رہ جانے کا شکار ہیں۔

یعنی ہمارے ہاں مختلف نسلوں اور قوموں کے بچوں کا قد جوانی تک ماضی میں یا اس وقت بھی غذا کی پوری مقدار ملنے اور صحت مند ہونے کے اعتبار سے جتنا ہوتا ہے اب غذائیت کی کمی کی وجہ سے ایسے بچے اب جو ان ہو جائیں تو ان کا قد پورا نہیں ہوتا۔غذائی قلت کی وجہ سے 40 فیصد بچوں کا وزن اپنی عمر کے حساب سے کم ہے، 63 فیصد مائیں پیدائش کے فورا بعد اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ، 27 فیصد مائیں جو کہ چھ ماہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں، 54 فیصد مائیں دو سال تک بچوں کی عمر کے حساب سے ان کو دودھ پلاتی ہیں اس شرح کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کو مہلک بیماریاں زیادہ اثر کرتی ہیں، ماں کے حمل سے لے کر بچے کو دودھ پلانے کے دوران جو کہ تقریبا ہزار دنوں پر محیط ہوتا ہے انتہائی اہمیت کے حامل ایام ہیں۔ اس بنیادی( IYCY) حکمت عملی کو مرتب کرنے کا مقصد بلوچستان میں غذائی قلت سے منسلک طبی پیچیدگیوں اور ان کے اثر سے زیادہ متاثر ہونے والے خواتین اور بچوں کی خوراک سے متعلق حکمت عملی کا جامع انداز میں پیش کرنا ، لوگوں کو اس بات کی جانب راغب کرنا کے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے تمام تر بنیادی دستیاب وسائل و ضروریات کو استعمال میں لا کر ان کی صحت کا خاص خیال رکھا جائے کیوں کہ صحت مند بچے اور ماں صحت مند بلوچستان کی بنیاد، اور لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لاتے ہوئے انھیں اس بات کی طرف قائل کرنا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، ماں کے دودھ کی بدولت ہی بچہ بہتر نشوونما پائے گا بیماریوں سے بچے گا اور ایک صحت مند زندگی جئے گا، دوران حمل ماں کے لیے صحت بخش اور متوازن غذا ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر انداز میں دودھ پلا سکے، آبادی کو اس بات کی طرف قائل کرنا کے بچے کی پیدائش کے فورا بعد بچے کو دودھ ہر حالت میں پلانا اور چھ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ دینا حتی کے پانی بھی نہ پلانا کے بنیادی اصول شامل ہیں، چھ ماہ کے بعد بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ اضافی نرم غذا بھی شروع کروانا اور دو سال تک صرف اور صرف ماں کا دودھ پلانا، بازاروں میں دستیاب ڈبے والا دودھ جو بازاروں میں ملتا ہے کسی بھی صورت ماں کے دودھ کا متبادل نہیں ہو سکتا، غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کا اعصابی مدافعتی قوت کمزور جب جبکہ طبی پیچیدگیاں زیادہ اثر کرتی ہیں۔

حاملہ خواتین ، دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کو غذائی قلت سے بچانا ہم سب کی مذہبی، قومی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہی. اور اس مقدس کام کیلئے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا۔ دنیا کی کوئی جاندار شیء ہو اس کی ابتدائی عمر کی صحت اس کی باقی ماندہ زندگی کے خدوخال وضح کرتی ہے،صحت مند ذہن کی نشو نما کیلئے غذا کا اہم کردار ہے ، غذاء ہمارے روز مرہ کے کام کرنے اٹھنے، بیٹھنے ،لکھنے پڑھنے اور کھیلنے کودنے کیلئے توانائی فراہم کرتی ہے ، غذا قوت مدافعت بڑھانے اور مختلف بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کو اجا گر کرتی ہے ، بڑی عمر میں ضعیفی کے اثرات کو کم کرتی ہے ،بنیادی قد اور جسامت کے حصول میں مدد کرتی ہے۔

بچوں کو نشو نما اور مضبوط رہنے کیلئے مختلف اقسام کی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے ، غذائیں مختلف اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جوکہ مختلف طریقوں سے جسم میں کام کرتے ہیں ، کچھ اجزاء توانائی مہیا کرتے ہیں تاکہ ہم کام کرسکیں اورجسمانی نشو نما پاسکیں ، کچھ اجزاء ہمیں صحت مند رہنے اور مختلف بیماریوں سے بچنے میں مدددیتے ہیں۔متوازن غذاء وہ غذاء ہے جس میں کاربو ہائیڈریٹ یعنی نشاستہ ،حیاتین ، لحمیات اورمعدنیات کی ایک خاص مقدار موجود ہو جو ہمارے جسم کیلئے ضروری ہے۔

خاص کر بچوں اور حاملہ /دودھ پلانے والی ماؤں کیلئے متوازن غذا انتہائی اہم ہے ، ایسے بچے جو دن میں چھ بار متوازن غذاء کھاتے ہیں ان بچوں کے مقابلے میں صحت مند ہوتے ہیں جو دن میں چار بار متوازن غذا کھاتے ہیں وہ اس لئے کے بچے سارا دن کھیلتے ہیں اور ان کو کافی مقدار میں متوازن غذاء کی ضروت ہوتی ہے ، متوازن غذااگر مقدار میں زیادہ لی جائے یا مقررہ مقدار سے کم ہوتو خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔