کوئی غریب اور متوسط طبقے کا آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، مولانا عبدالحق ہاشمی

موجودہ فرسودہ نظام کے باعث قومی دولت لوٹنے والوں کی اکثریت اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے، عوام اپنے ووٹ کی پرچی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں اور ایسی قیادت کو اوپر لائیں جو حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو،الحمد اللہ کرپشن سے پاک ،دینی وعصری علوم سے لیس جماعت اسلامی کے امیدواروں پر کوئی انگلی نہیں اُٹھاسکتا، صوبائی امیر جماعت اسلامی کا بیان

جمعہ جون 22:46

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ الیکشن کے عمل کو اتنا مہنگاومشکل کردیا گیا ہے کہ کوئی غریب اور متوسط طبقے کا آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ موجودہ فرسودہ نظام کے باعث جن لوگوں نے ناجائز طریقے سے کرپشن کرکے قومی دولت لوٹاہے ان کی اکثریت بار بار اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام کی حالت بدلنے کے بجائے وہ اپنے مال وزر اوربینک بیلنس بڑھادیتے ہیں۔

نظام میں تبدیلی لانے کا وقت آگیا ہے ۔عوام اپنے ووٹ کی پرچی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں اور ایسی قیادت کو اوپر لائیں جو حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو۔الحمد اللہ کرپشن سے پاک ،دینی وعصری علوم سے لیس جماعت اسلامی کے امیدواروں پر کوئی انگلی نہیں اُٹھاسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ملک سے کرپشن اور کرپٹ نظام سے نجات کا حل اب ووٹرز کے پاس اپنے ووٹ کی صورت میں موجود ہے ۔

اب عوام ملکی وسائل لوٹنے اور کرپشن کو پروان چڑھانے والے سیاستدانوں کوانتخابات میں مسترد کریں ۔۔بلوچستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو کرپشن وکمیشن مافیا سے نجات حاصل کرناہوگا ۔ کرپٹ اور بدیانت ٹولے کو ایک جگہ جمع کرکے تبدیلی یا انقلاب نہیں لایا جا سکتا ، قوم کی دولت لوٹ کر اس کے بل بوتے پر مٹھی بھر لیٹرے ہر الیکشن میں پارٹیاں اور جھنڈے بدل کر عوام کی آنکھیوں میں دھول جھونکتے آرہے ہیں لیکن اب قوم بیدار ہو چکی ہے اور ان چور لیٹروں کی پہنچان چکی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بار بار پارٹیا ں اور جھنڈے تبدیل کرنے والے سیاسی مداری کسی بھی پارٹی میں چلے جائیں اب ان عوام ان کی کارکردگی کی بنیاد پہنچان چکی ہے۔ الحمداللہ ہمارے تمام امیدواران ملکی آئین کے مطابق 62،63 کی سمیت تمام شقوں پر پورا ُترتے ہیں اورہمارے تمام قومی و صوبائی امیدواران کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے ہیں ۔ اب عوام دیانتدار ، انصاف پسند اور کرپشن کے پاک جماعت اسلامی و ایم ایم اے کے نڈر امیدواروں کو اپنے قیمتی ووٹ کی طاقت سے کامیاب بناکر مسائل وپریشانیوں سے نجات حاصل کریں گے ۔

ملکی معاشی ترقی کے راستے میں کرپشن وقرضوں کے پہاڑ کھڑے ہیں۔اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہوچکا ہے۔حکومتیں بدلتی رہیں مگر عوام کی حالت زار کبھی نہیں بدلی۔ مقتدربڑی جماعتوں اورسابق منتخب نمائندوں کو عوام کے مسائل اور انکے حل سے کوئی غرض نہیں۔ ایک طرف غریب عوام فاقوں کی بدولت خودکشیوںپر مجبور ہیں تو دوسری طرف حکومتی شاہانہ اخراجات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکمرانوں او ر عوام کو سادگی کا کلچر اپنا نا ہوگا ۔ ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر لگنے والے سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔