توانائی کے ذخائر کوبروئے کارلاکر صوبے میںبے روزگاری کاخاتمہ کیاجاسکتاہے، نگران وزیرحاجی فضل الہٰی

صوبے کی طلب2800میگاواٹ ہے جبکہ پیسکوصوبے کی مختص کردہ13.5فیصدکوٹے کی پوری بجلی فراہم نہیں کررہااوراضافی لوڈشیڈنگ کررہاہے جبکہ الیکٹریسٹی کی مد میں ڈیوٹی پر بھی کٹوتی کی جارہی ہے،صوبائی وزیر توانائی وبرقیات کا اجلاس سے خطاب وزیر توانائی نے صوبے میں فوری طورپر اپنی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کرنے کی ہدایت کر دی

جمعہ جون 22:55

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) نگران صوبائی وزیر توانائی وبرقیات ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ،خیبرپختونخواحاجی فضل الہٰی نے کہاہے کہ خیبرپختونخوامیں پائے جانے والے توانائی کے ذخائریہاں کا قیمتی سرمایہ ہیں ان وسائل کوبروئے کارلاکربے روزگاری کاخاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیںصوبے کی مضبوط معیشت کا ذریعہ بھی بنایاجاسکتاہے۔

انہوں نے صوبے میں پیسکوکی جانب سے اضافی اورناروالوڈشیڈنگ کرنے پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے خیبرپختونخوامیںحکومتی سطح پر اپنی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر پر زوردیاہے تاکہ پیسکو کی اجارہ داری کو ختم کیاجاسکے۔ان خیالات کا اظہارانہوںنے محکمہ توانائی وبرقیات میںدی گئی بریفنگ میں کیا۔ اجلاس میں چیف ایگزیکٹوآفیسرپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ ،چیف ایگزیکٹیوآفیسرکے پی اوجی سی ایل انجینئررضی الدین،جنرل منیجرہائیڈل پیڈوانجینئربہادرشاہ اور ڈپٹی سیکرٹری محکمہ توانائی جاویدعلی نے محکمہ توانائی وبرقیات اوراسکے ذیلی اداروں کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں بتایاگیا کہ محکمہ توانائی سالانہ 49ارب روپے سے زائدآمدن دینے والا صوبے کاواحد محکمہ ہے جوصوبے کے دیگرتمام محکموںکی کل آمدن سے زائدآمدن دیتاہے۔ محکمہ توانائی ہائیڈل،الٹرنیٹ انرجی،آئل اینڈ گیس اوربجلی صارفین کے مسائل کے حل پر کام کرتاہے۔محکمہ توانائی کاذیلی ادارہ پیڈو 124میگاواٹ پن بجلی پیداکررہاہے جس سے صوبے کوسالانہ اربوں کی آمدن ہورہی ہے۔

اسکے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع میںپن بجلی کے 6منصوبے زیرتعمیرہیں جن سے 253میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی۔اسکے علاوہ نجی شعبے کے ذریعی203.5میگاواٹ کے شمسی توانائی کے 5منصوبوں پر کام جاری ہے۔اجلاس میں بتایا گیاکہ ضلع چترال میں صوبائی حکومت تقریباًاڑھائی ہزارمیگاواٹ زیرتکمیل بجلی کے منصوبوں سے پیداہونے والی بجلی کے استعمال کے لئے ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جارہی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میںگیس کی پیداوار کے 1.1بلین بیرل اور16ٹریلین کیوبک فٹ گیس پیداکرنے کے ذخائرموجودہیں جن سے سالانہ 100بلین ڈالرز سالانہ آمدن متوقع ہے۔ صوبے میں تیل وگیس کے ذخائرکی تلاش کے لئے خیبرپختونخواآئل اینڈ گیس کمپنی لمیٹڈ(کے پی اوجی سی ایل)کام کررہی ہے جس نے لکی مروت میں لکی بلاک کے منصوبے پر کام شروع کررکھا ہے جس سے صوبے کو سالانہ اربوں کی آمدن متوقع ہے۔

اجلاس کے آخرمیں صوبائی وزیر توانائی وبرقیات حاجی فضل الہٰی نے صوبے میں توانائی کے جاری منصوبوں پر کام کی رفتارپراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ ایسے تمام منصوبوں کے معاہدے فوری طورپر منسوخ کئے جائیں جن پر کسی بھی قسم کا کام نہ کیا گیا ہواورجن کے معاہدوں کی معیاد ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیا کہ صوبے کی طلب2800میگاواٹ ہے جبکہ پیسکوصوبے کی مختص کردہ13.5فیصدکوٹے کی پوری بجلی فراہم نہیں کررہااوراضافی لوڈشیڈنگ کررہاہے جبکہ الیکٹریسٹی کی مد میں ڈیوٹی پر بھی کٹوتی کی جارہی ہے۔صوبائی وزیرتوانائی نے زوردیا کہ صوبے کے بہترین مفاد میں فوری طورپر اپنی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کی جائیں۔

متعلقہ عنوان :