جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں اختلافات کی وجہ کیا نکلی ،اندر کی خبر آ گئی

سکندر بوسن کے ٹکٹ پر اختلافات شروع ہوئے،دونوں فریقین کو راضی رکھنے کے لیے 3,3 ٹکٹ دئیے گئے مگر معاملہ ٹھیک نہ ہو سکا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس جمعہ جون 21:31

جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں اختلافات کی وجہ کیا نکلی ،اندر ..
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔22 جون 2018ء) ::جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں اختلافات کی وجہ کیا نکلی ،اندر کی خبر آ گئی۔ سکندر بوسن کے ٹکٹ پر اختلافات شروع ہوئے،دونوں فریقین کو راضی رکھنے کے لیے 3,3 ٹکٹ دئیے گئے مگر معاملہ ٹھیک نہ ہو سکا۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف میں اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔۔پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنما جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی ایک دوسرے کے خلاف کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

جہانگیر ترین اور شاہ محمود کا تنازعہ اب میڈیا کی زینت بننے لگا۔اس حوالے سے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے سارے معاملات میڈیا کے سامنے رکھ دئیے۔۔جہانگیر خان ترین سے اختلافات کو بے بنیاد قرار دے دیا، بولے کہ جو شخص سیاست سے ہی آؤٹ ہوگیا، گیم میں کسی طرح ہے ہی نہیں، کیا میں پاگل ہوں اُس شخص سے مقابلہ کروں گا۔

(جاری ہے)

پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قسماً کہا کہ میرا جہانگیر خان ترین سے کوئی جھگڑا یا اختلاف نہیں۔

دوسری جانب جہانگیر خان ترین سے صحافی سے شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس سے متعلق سوال کیا تو وہ بولے کہ میں نے پریس کانفرنس نہیں دیکھی، دیکھ کر ضرور جواب دوں گا۔انکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں بطور عام کارکن کام کررہا ہوں۔ میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ ہرحلقے سے جیت کرعمران خان کووزیراعظم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر دکھ ہوا لیکن فورا فیصلہ تسلیم کیا۔

پی ٹی آئی میں نہ کوئی عہدہ مل سکتا ہےنہ میں کوشش کررہا ہوں۔ پی ٹی آئی میں ویسے کھڑا ہوں جیسے پہلے کھڑا تھا اور محنت کررہا ہوں۔تاہم اس تنازعے کی اصل خبر سامنے آگئی۔نجی ٹی وی کی خبر کے مطابق مسئلہ سکندر بوسن کی ٹکٹ سے شروع ہوا۔۔شاہ محمود قریشی چاہتے تھے کہ کسی نظریاتی کارکن کو ٹکٹ دیا جائے تاہم سکندر بوسن چونکہ جہانگیر ترین کی محنت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے ۔

اس لئیے جہانگیر ترین اس حق میں تھے کہ پارٹی کا ٹکٹ سکندر بوسن کو دیا جائے۔اس معاملے پر پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔دونوں فریقین میں معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے 3,3 ٹکٹ دئیے گئے مگر اس کے باوجود بھی معاملہ ٹھنڈا نہ ہوسکا۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین میں اختلافات ہو چکے ہیں تاہم بعد میں معاملات سیٹل کر لئیے گئے لیکن موجودہ صورتحال میں برف پگھلتی دکھائی نہیں دیتی اور اس کا الیکشن پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔