پرویز مشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں، استعفیٰ الیکشن کمیشن میں جمع کروادیا گیا ہے، ڈاکٹر محمد امجد

اے پی ایم ایل آئندہ کے عام انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی ،مشرف پارٹی کے سرپرست کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے ویڈیو لنگ کے ذریعے سے خطاب کریں گے اور پارٹی کی مکمل سپورٹ کریں گے، پریس کانفرنس

جمعہ جون 22:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ پارٹی کے صدر پرویز مشرف اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیںان کا استعفی الیکشن کمیشن میں جمع کروادیا گیا ہے، اے پی ایم ایل آئندہ کے عام انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی ،مشرف پارٹی کے سرپرست کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے ویڈیو لنگ کے ذریعے سے خطاب کریں گے اور پارٹی کی مکمل سپورٹ کریں گے، مشرف چیف جسٹس کے احکامات پر پاکستان آجاتے لیکن وفاقی نگراں وزیر داخلہ کی جانب سے ان کی واپسی کے حوالے رکاوٹیں ڈالی گئیں، 23جماعتی اتحاد میں شامل جماعتیں اپنے اپنے انتخابی نشان سے الیکشن میں حصہ لیں گی اس لئے مشترکہ اتحاد نہیں رہا البتہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پارٹی کے صدر کی حیثیت سے استعفی دیا ہے۔ اس لئے کہ عدلیہ کی جانب سے انھیں نا اہل قرار دیا جا چکا ہے۔ انھوں نے نواز شریف کی طر ح سے نہیں کیا کہ وہ عدالت کا فیصلہ نہیں مانیں گے مشرف عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ الیکشن کے موقع پر پرویز مشرف نے خود سے پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا، جس کے لئے پارٹی کی جانب سے عدالت میں درخواست دی گئی تھی کہ مشرف پاکستان واپس آنا چاہتے ہیںان کی نااہلی کو ختم کیا جائے اور انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے، جس عدلیہ کی جانب سے تاریخ دی وہ فلاں تاریخ کو عدالت میں میں حاضر ہوجائیں ہماری جانب سے تین دن کا وقت مانگا گیا لیکن نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی مشرف نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن نگراں حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ نے مشرف کی پاکستان کے خلاف رکاوٹیں ڈالیں ان کا پاسپورٹ، شناختی کارڈ آخری وقت تک بحال نہیں کیا تھا اورنگراں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ مشرف پر آرٹیکل 6لگا ہوا ہے اس لئے وہ اس قانون کے تحت ہی عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں اور انھیں الیکشن لڑنے کا جو ریلیف ملا تھا وہ بھی واپس لے لیا گیاایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ سوال تو نگراں وفاقی وزیر داخلہ سے پوچھا جائے کہ انھوں نے مشرف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے کیوں رکاوٹیں ڈالیں جبکہ انھوں نے عمران خان کے دوست کو غیر قانونی طور پر کیسے ملک سے باہر جانے دیا۔

مشرف کے ملک بھر کے چار حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے تھے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں اور ہمیشہ رہیں انھوں نے 1965اور 1970کے جنگوں میں حصہ لیا تھا یہ کہنا کہ وہ ڈر کر پاکستان نہیں آرہے بیوقوفانہ بات ہے، وہ کیا اپنے مخالفین چوروں اور لٹیروں سے ڈریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جلد پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی جائے گی کہ ان کی نااہلی کے سلسلے میں ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے، اور ان پر آرٹیکل 6لگانے کی وضاحت کی جائے ۔