ماحولیات کی بہتری اور رے بیز پر کنٹرول کیلئے نجی اداروں کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں ، میئر کراچی وسیم اختر

شہر اور شہریوں کے وسیع تر مفاد میںماحولیات کی بہتری اور شہریوں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے

جمعہ جون 22:56

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ ماحولیات کی بہتری اور رے بیز پر کنٹرول کے لئے نجی اداروں کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں ، شہر اور شہریوں کے وسیع تر مفاد میںماحولیات کی بہتری اور شہریوں کو متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے تمام ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے یہ بات انہوں نے بین الاقوامی ادارے جوائن ہینڈز(Join Hands) کی ڈائریکٹر سبرینا صہبائی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، جنہوں نے میئر کراچی وسیم اختر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور کراچی میں کتوں کی افزائش اور رے بیز پر کنٹرول سمیت کچرے کو ری سائیکل کرنے اور مختلف سماجی و معاشی مسائل پر گفتگو کی، اس موقع پر سی پی ایل سی کے سربراہ زبیر محمود اور میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

سبرینا صہبائی نے بتایا کہ ان کی این جی او بین الاقوامی سطح پر سرگرم ہے اور خاص طور پر ماحولیات ، جنگلی حیات، جانوروں کی فلاح و بہبود، سوشل ویلفیئر اور تعلیم کے شعبوں میںمختلف ممالک میں پروجیکٹس پر کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی ان شعبوں میں کام کرنے کی گنجائش ہے اور اس سلسلے میں تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں ، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات دنیا کے تمام بڑے شہروں میں نمایاں ہو رہے ہیں اور اس حوالے سے عالمی سطح پر پالیسیاں بنائی جارہی ہیں تاکہ مستقبل میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹا جاسکے، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے بحیثیت میئر مختلف عالمی ماحولیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے کئے ہیں تاکہ دنیا کے دیگر میگا سٹیز کی طرز پر کراچی میں بھی ماحولیات کی بہتری کے لئے کام کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں صفائی ستھرائی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے جبکہ کتوں کی افزائش کو روکنے اور سگ گزیدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی مقامی اسپتال کے اشتراک سے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد شہریوں کو رے بیز جیسی خطرناک بیماری سے تحفظ دلانا ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے اور رے بیز کی بیماری کے باعث ہونے والی اموات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ شہریوں کو صاف ستھرا اور جراثیم سے پاک ماحول مہیا کیا جائے۔

انڈسٹریل ایریا میں آوارہ کتوں کی بہتات سے سب سے زیادہ بزنس کمیونٹی متاثر ہے۔ آوارہ کتوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت رے بیز کا حل نہیں بلکہ اس کے لئے عالمی ادارہ صحت (WHO) اور ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ (او آئی ای) کی حکمت عملی پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت کتوں کو حفاظتی ٹیکے لگا کر ان میں رے بیز کے خلاف مدافعت / مزاحمت پیدا کی جاتی ہے اور مزید برآں اینیمل برتھ کنٹرول (اے بی سی) کے ذریعے آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعدادمیں کمی لائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں انڈس اسپتال کے تعاون سے پائلٹ پروجیکٹ ابراہیم حیدری کے علاقے میں شروع کیا گیا اب اسے بتدریج شہر کے دیگر حصوں تک وسعت دی جا رہی ہے ۔ انڈس اسپتال کے ساتھ اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے کے تحت انڈس اسپتال،عباسی شہید اسپتال میں ٹی بی کے علاج کے لئے ایک بنیادی یونٹ قائم کرے گا جبکہ بعدازاں اس کا دائرہ کار کے ایم سی کے دیگر اسپتالوں تک بھی بڑھایا جائے گا، س اسپتال مشترکہ طور پر ٹی بی اور کتے کے کاٹنے سے ہونے والی بیماری رے بیز کے خاتمے کیلئے مہم چلائیں گے۔